السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في خير الشهداء باب: بہترین گواہوں کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20597
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ فَلَمْ يَشْهَدْ بِهَا حَيْثُ رَآهَا أَوْ حَيْثُ عَلِمَ، فَإِنَّمَا يَشْهَدُ عَلَى ضِغْنٍ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ فِيمَا بَيْنَ الثَّقَفِيِّ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبیداللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا: جس کے پاس گواہی ہو اور اس نے (واقعہ) دیکھتے وقت یا جانتے وقت اس کی گواہی نہ دی، تو وہ (بعد میں) کینہ کی بنا پر ہی گواہی دیتا ہے۔
یہ روایت ثقفی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔