کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان (عورتوں) کی تعداد کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ التُّجِيبِيُّ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي اللُّبِ مِنْكُنَّ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ، فَذَلِكَ نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”میں نے عقل و دین میں نقص والی کوئی چیز نہیں دیکھی لیکن اس کے باوجود وہ عقل مند آدمی پر غلبہ پا لیتی ہیں۔“ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہماری عقل و دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل کا نقصان یہ ہے کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر رہے اور کئی راتیں نماز سے رک جانا، رمضان کے روزے ترک کر دینا، یہ دین کا نقصان ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: " لَا يَجُوزُ إِلَّا أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فِي الِاسْتِهْلَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کے چیخنے کے بارے میں صرف چار عورتوں کی گواہی قابلِ قبول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ ". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الْأَعْمَشِ، بَيْنَهُمَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”دائی کی شہادت کو قبول کرنے کی اجازت دی ہے“۔
محمد بن عبدالملک نے یہ روایت اعمش سے نہیں سنی، ان دونوں کے درمیان ایک مجہول آدمی ہے۔
محمد بن عبدالملک نے یہ روایت اعمش سے نہیں سنی، ان دونوں کے درمیان ایک مجہول آدمی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَائِنِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَائِنِيُّ رَجُلٌ مَجْهُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن مدائنی رحمہ اللہ، اعمش رحمہ اللہ سے اس کے مثل نقل فرماتے ہیں۔
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: ابوعبدالرحمن مدائنی مجہول آدمی ہے۔
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: ابوعبدالرحمن مدائنی مجہول آدمی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ زَادَ أَبُو عَوَانَةَ: " وَحْدَهَا ". هَذَا لَا يَصِحُّ، جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ مَتْرُوكٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُجَيٍّ فِيهِ نَظَرٌ ⦗٢٥٥⦘ وَرَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ قَالَ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ: لَوْ صَحَّتْ شَهَادَةُ الْقَابِلَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقُلْنَا بِهِ، وَلَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَوْ ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صِرْنَا إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَلَكِنَّهُ لَا يَثْبُتُ عِنْدَكُمْ، وَلَا عِنْدَنَا عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن نجی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دائی کی شہادت قبول کرتے تھے، ابوعوانہ نے یہ اضافہ کیا: اکیلی (دائی) کی۔
یہ روایت صحیح نہیں، جابر جعفی متروک ہے اور عبداللہ بن نجی محل نظر ہے۔ سوید بن عبدالعزیز نے بھی، جو ضعیف ہے، اسے غیلان بن جامع سے، انہوں نے عطاء بن ابی مروان سے، انہوں نے اپنے والد سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسحاق حنظلی فرماتے ہیں: اگر دائی کی گواہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہوتی تو ہم اس کے قائل ہوتے، لیکن اس کی سند میں خلل ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں ورنہ ہم اس پر عمل کر لیتے۔
یہ روایت صحیح نہیں، جابر جعفی متروک ہے اور عبداللہ بن نجی محل نظر ہے۔ سوید بن عبدالعزیز نے بھی، جو ضعیف ہے، اسے غیلان بن جامع سے، انہوں نے عطاء بن ابی مروان سے، انہوں نے اپنے والد سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسحاق حنظلی فرماتے ہیں: اگر دائی کی گواہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہوتی تو ہم اس کے قائل ہوتے، لیکن اس کی سند میں خلل ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں ورنہ ہم اس پر عمل کر لیتے۔