السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: ما جاء في عددهن باب: ان (عورتوں) کی تعداد کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ زَادَ أَبُو عَوَانَةَ: " وَحْدَهَا ". هَذَا لَا يَصِحُّ، جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ مَتْرُوكٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُجَيٍّ فِيهِ نَظَرٌ ⦗٢٥٥⦘ وَرَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ قَالَ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ: لَوْ صَحَّتْ شَهَادَةُ الْقَابِلَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَقُلْنَا بِهِ، وَلَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَوْ ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صِرْنَا إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَلَكِنَّهُ لَا يَثْبُتُ عِنْدَكُمْ، وَلَا عِنْدَنَا عَنْهُ ".عبداللہ بن نجی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دائی کی شہادت قبول کرتے تھے، ابوعوانہ نے یہ اضافہ کیا: اکیلی (دائی) کی۔
یہ روایت صحیح نہیں، جابر جعفی متروک ہے اور عبداللہ بن نجی محل نظر ہے۔ سوید بن عبدالعزیز نے بھی، جو ضعیف ہے، اسے غیلان بن جامع سے، انہوں نے عطاء بن ابی مروان سے، انہوں نے اپنے والد سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسحاق حنظلی فرماتے ہیں: اگر دائی کی گواہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح ثابت ہوتی تو ہم اس کے قائل ہوتے، لیکن اس کی سند میں خلل ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں ورنہ ہم اس پر عمل کر لیتے۔