السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: ما جاء في عددهن باب: ان (عورتوں) کی تعداد کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20540
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ التُّجِيبِيُّ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي اللُّبِ مِنْكُنَّ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ، فَذَلِكَ نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”میں نے عقل و دین میں نقص والی کوئی چیز نہیں دیکھی لیکن اس کے باوجود وہ عقل مند آدمی پر غلبہ پا لیتی ہیں۔“ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہماری عقل و دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل کا نقصان یہ ہے کہ دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر رہے اور کئی راتیں نماز سے رک جانا، رمضان کے روزے ترک کر دینا، یہ دین کا نقصان ہے۔“