کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: طلاق، رجوع اور ان کے ہم معنی امور جیسے نکاح، قصاص اور حدود میں گواہی کا بیان۔
❮
❯
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کو پہنچنے لگیں تو انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ، اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثنا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ "؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صبح کے وقت خیبر میں مقتول پایا گیا، اس کے وارثوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے دو گواہ اس قتل پر گواہی دیں گے؟“ انہوں نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ! وہاں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے، وہاں یہودی ہیں وہ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20525
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ ⦗٢٥٠⦘ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْقُومِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، فَإِنْ نَكَحَتْ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ". وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ " وَرُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ مَعَ النِّسَاءِ فِي النِّكَاحِ لَا يَصِحُّ، فَعَطَاءٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔ اگر اس نے اپنا نکاح خود کر لیا تو نکاح باطل ہے۔“
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20526
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في كتاب النكاح»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْإِطْلَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ عورتوں کی گواہی کو مطلقاً جائز نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20527
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْحُدُودِ وَالطَّلَاقِ، قَالَ: " وَالطَّلَاقُ مِنْ أَشَدِّ الْحُدُودِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کی گواہی حدود و طلاق میں جائز نہیں، فرمایا: طلاق تو سب سے زیادہ سخت حدود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20528
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»