قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ} [النساء: 15]، وَقَالَ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً} [النور: 4].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾ ”اور تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔“ [سورة النساء: 15]
اور فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسی (80) کوڑے مارو۔“ [سورة النور: 4]
اور فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسی (80) کوڑے مارو۔“ [سورة النور: 4]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو پھر میں چار گواہ تلاش کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنْ كُنْتُ لَأُعْجِلُهُ بِالسَّيْفِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟ إِنَّهُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی عورت کے پاس کسی مرد کو پاؤں، پھر اس کو کچھ کہے بغیر چار گواہ تلاش کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے: نہیں اللہ کے رسول! پہلے میں اس کی گردن ماروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سنو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے، یہ غیرت مند ہے، میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلٌ، فَقَتَلَهَا، أَوْ قَتَلَهُ؟ فَسَأَلَهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا ذَكَّرَكَ هَذَا؟ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِنَا؟ عَزَمْتُ عَلَيْكَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ فِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهَا، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ: " إِنْ جَاءَنَا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا دَفَعَ بِرُمَّتِهِ "، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: " يُقْتَلُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ مَضَى مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَشَهِدَ ثَلَاثَةٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالزِّنَا، وَلَمْ يُثْبِتِ الرَّابِعُ، فَجَلَدَ الثَّلَاثَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے، اس کی عورت کے ساتھ دوسرا آدمی ہے، وہ اس عورت کو یا مرد کو قتل کر دے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کو یہ بات کس نے یاد دلائی؟ یہ تو ایسی چیز ہے جو ہمارے علاقے میں نہیں ہوئی، میں آپ کو قسم دیتا ہوں (کہ بتائیں)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھ لوں۔ فرمایا: میں ابوالحسن ہوں: اگر وہ چار گواہ لے آئے (تو ٹھیک)، وگرنہ اسے رسی سمیت (قصاص کے لیے) حوالے کر دیا جائے گا۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف زنا کی گواہی دی اور چوتھے نے گواہی ثابت نہ کی تو انہوں نے ان تینوں کو کوڑے لگائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف زنا کی گواہی دی اور چوتھے نے گواہی ثابت نہ کی تو انہوں نے ان تینوں کو کوڑے لگائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ - هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا شَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَصَاحِبَاهُ عَلَى الْمُغِيرَةِ جَاءَ زِيَادٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَجُلٌ إِنْ يَشْهَدْ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ "، قَالَ: رَأَيْتُ ابْتِهَارًا وَمَجْلِسًا سَيِّئًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ رَأَيْتَ الْمِرْوَدَ دَخَلَ الْمُكْحُلَةَ؟ " قَالَ: لَا: " فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُلِدُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے خلاف گواہی دی تو زیاد آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایسا آدمی ہے جو ان شاء اللہ حق کے سوا گواہی نہیں دے گا۔ اس نے کہا کہ میں نے تیز سانسیں اور بری مجلس دیکھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ نے سرمچو کو سرمہ دانی کے اندر داخل ہوتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو انہوں نے ان (تینوں) کے بارے میں حکم دیا اور انہیں کوڑے مارے گئے۔