کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زنا کے معاملے میں گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20521
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ} [النساء: 15]، وَقَالَ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً} [النور: 4].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾ ”اور تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔“ [سورة النساء: 15]
اور فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسی (80) کوڑے مارو۔“ [سورة النور: 4]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20521
حدیث نمبر: 20521
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو پھر میں چار گواہ تلاش کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20521
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1498»
حدیث نمبر: 20522
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنْ كُنْتُ لَأُعْجِلُهُ بِالسَّيْفِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟ إِنَّهُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی عورت کے پاس کسی مرد کو پاؤں، پھر اس کو کچھ کہے بغیر چار گواہ تلاش کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے: نہیں اللہ کے رسول! پہلے میں اس کی گردن ماروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سنو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے، یہ غیرت مند ہے، میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20522
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 20523
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلٌ، فَقَتَلَهَا، أَوْ قَتَلَهُ؟ فَسَأَلَهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا ذَكَّرَكَ هَذَا؟ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِنَا؟ عَزَمْتُ عَلَيْكَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ فِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهَا، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ: " إِنْ جَاءَنَا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا دَفَعَ بِرُمَّتِهِ "، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: " يُقْتَلُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ مَضَى مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَشَهِدَ ثَلَاثَةٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالزِّنَا، وَلَمْ يُثْبِتِ الرَّابِعُ، فَجَلَدَ الثَّلَاثَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے، اس کی عورت کے ساتھ دوسرا آدمی ہے، وہ اس عورت کو یا مرد کو قتل کر دے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا آپ کو کچھ یاد ہے؟ یہ تو بڑی چیز ہے، ہمارے علاقے میں نہیں کہ میں آپ کے اوپر قصد کروں۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھ لوں؛ اگر وہ چار گواہ لائے تو درست وگرنہ اپنے ارادے کو ترک کر دے۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زنا کے تین گواہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، چوتھا میسر نہ تھا تو انہوں نے صرف کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20523
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ - هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا شَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَصَاحِبَاهُ عَلَى الْمُغِيرَةِ جَاءَ زِيَادٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَجُلٌ إِنْ يَشْهَدْ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ "، قَالَ: رَأَيْتُ ابْتِهَارًا وَمَجْلِسًا سَيِّئًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ رَأَيْتَ الْمِرْوَدَ دَخَلَ الْمُكْحُلَةَ؟ " قَالَ: لَا: " فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُلِدُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھی مغیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو زیاد بھی آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک آدمی سے صرف حق کی گواہی دینا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کو بری مجلس میں دیکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ نے سرمچو کو سرمہ دانی کے اندر داخل ہوتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو اس کو کوڑے مارے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20524
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»