السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: الشهادة في الطلاق، والرجعة وما في معناهما من النكاح والقصاص والحدود باب: طلاق، رجوع اور ان کے ہم معنی امور جیسے نکاح، قصاص اور حدود میں گواہی کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2].اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کو پہنچنے لگیں تو انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ، اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثنا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ "؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صبح کے وقت خیبر میں مقتول پایا گیا، اس کے وارثوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے دو گواہ اس قتل پر گواہی دیں گے؟“ انہوں نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ! وہاں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے، وہاں یہودی ہیں وہ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔