کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی لوگوں کو ان کی آمد کی ترتیب کے مطابق (پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر) مقدم رکھے کیونکہ پہلے آنے والے کو سبقت کا حق حاصل ہے اور سبقت شریعت میں ایک اصل (بنیاد) ہے۔
حدیث نمبر: 20484
وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ "، وَعَنْ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُبِقَ إِلَى مَا لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ "، يُرِيدُ بِهِ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
اور ہمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ: ”منیٰ اس شخص کے پڑاؤ کی جگہ ہے جو (وہاں) پہلے پہنچ جائے۔“
اور سیدنا اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ: ”جو شخص کسی ایسی چیز کی طرف سبقت کر جائے جس کی طرف کسی مسلمان نے اس سے پہلے سبقت نہ کی ہو تو وہ اسی کی ہے۔“ اس سے مراد بنجر زمین کو آباد کرنا ہے۔
اور سیدنا اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ: ”جو شخص کسی ایسی چیز کی طرف سبقت کر جائے جس کی طرف کسی مسلمان نے اس سے پہلے سبقت نہ کی ہو تو وہ اسی کی ہے۔“ اس سے مراد بنجر زمین کو آباد کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 20484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٢٣٦⦘ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هِيَ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ "، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: " اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ "، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار آدمی جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔“ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی چادر سنبھالتے ہوئے بولے: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے لیے دعا فرمائیں اللہ مجھے ان میں سے کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس کو ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا۔ اس نے بھی کہا: دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ سبقت لے گیا۔“