کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے اپنی جان یا اپنے مال سے ظلم کو دفع کرنے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دی۔
حدیث نمبر: 20482
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ وَكَانَ مِنَ الْخِيَارِ قَالَ: ثنا وَكِيعٌ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنَّهُ لَمَّا أَتَى أَرْضَ الْحَبَشَةِ أَخَذَ بِشَيْءٍ، فَتَعَلَّقَ بِهِ، فَأَعْطَى دِينَارَيْنِ حَتَّى خُلِّيَ سَبِيلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی زمین پر آئے تو انہوں نے کوئی چیز لی، پھر ان کا راستہ روک لیا گیا، تو انہوں نے دو دینار دیے جس کے بعد ان کا راستہ چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20482
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20483
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " لَيْسَتِ الرِّشْوَةُ الَّتِي يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا بِأَنْ يَرْشُوَ فَيَدْفَعَ عَنْ مَالِهِ وَدَمِهِ، إِنَّمَا الرِّشْوَةُ الَّتِي تَأْثَمُ فِيهَا أَنْ تَرْشُوَ لَتُعْطَى مَا لَيْسَ لَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رشوت وہ نہیں جس میں اس کا دینے والا گناہ گار ہوتا ہے، اگر وہ اپنے مال و خون کی حفاظت کے لیے دیتا ہے تو گناہ گار نہیں ہے، اس رشوت میں انسان گناہ گار ہوتا ہے جو کسی کا حق لینے کے لیے دی جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20483
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»