کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص کو کسی حاکم (یا قاضی) کے فیصلے کی طرف بلایا جائے۔
حدیث نمبر: 20485
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ} [النور: 48].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ ”اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ منہ پھیرنے والا ہوتا ہے۔“ [سورة النور: 48]
حدیث نمبر: 20485
وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دُعِيَ إِلَى حَكَمٍ مِنَ الْحُكَّامِ فَلَمْ يُجِبْ فَهُوَ ظَالِمٌ " هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو حکام میں سے کسی کی طرف بلایا جاتا ہے پھر وہ اس کی بات کو قبول نہیں کرتا تو وہ ظالم ہے۔“