کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رشوت لینے اور کسی کا حق مارنے (باطل کرنے) کے لیے رشوت دینے پر سخت وعید کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ: " الرِّشَا "، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَوْرِ فِي الْحُكْمِ، فَقَالَ: " ذَلِكَ الْكُفْرُ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» کے بارے میں سوال کیا تو فرمانے لگے: یہ رشوت ہے اور میں نے فیصلے میں ظلم کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: یہ کفر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٢٣٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ: " هِيَ الرِّشَا "، فَقَالَ: فِي الْحُكْمِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " ذَلِكَ الْكُفْرُ "، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے «سُحْت» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ رشوتیں ہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: فیصلے میں (رشوت)؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو کفر ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] ”جو اللہ کی نازل شدہ کتاب کے ذریعے فیصلہ نہیں کرتا وہی کافر لوگ ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ رِشْوَةٌ فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ: " لَا "، {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤]، وَ {الظَّالِمُونَ} [المائدة: ٤٥]، وَ {الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧]، وَلَكِنَّ السُّحْتَ أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلِمَةٍ فَيُهْدِيَ لَكَ فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» ”سحت“ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ فیصلے میں رشوت ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ﴿جو اللہ کے نازل شدہ وحی کے ذریعے فیصلہ نہ کرے وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں﴾ [سورة المائدة: 44، 45، 47]، لیکن «السُّحْتُ» ”سحت“ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی ظلم (کے ازالے) پر آپ سے مدد طلب کرے، پھر وہ آپ کو تحفہ دے اور آپ اس کو قبول کریں، یہ سحت ہے۔