کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی اس (فریقِ مقدمہ) سے کوئی ہدیہ (تحفہ) قبول نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ إِلِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ: أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا "؟ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِيَنَا، فَيَقُولَ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ: هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا وَلَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ "، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّنَا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ. قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: قَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو صدقہ پر عامل بنایا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ ملا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی ماں یا باپ کے گھر میں رہتا تو کیا تجھے تحفہ دیا جاتا؟“ پھر نبی ﷺ شام کے وقت نماز کے بعد منبر پر بیٹھے اور اللہ کی حمد و ثنا فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عاملوں کو کیا ہے کہ وہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں: یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے ہیں۔ وہ اپنے ماں، باپ کے گھر رہتا، پھر دیکھتا اس کو تحفے ملتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی قسم! جس نے اس طرح کوئی چیز قبول کی وہ اس کو اپنی گردن پر قیامت کے دن لائے گا۔ اگر اونٹ ہے تو اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے بلبلانے کی آواز ہوگی۔ اگر گائے ہے اس کو لے کر آئے گا اس کی آواز ہوگی۔ اگر بکری ہے اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے آواز ہوگی۔ میں نے پہنچا دیا۔“ پھر نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھائے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ رہی تھی۔
یہ بات میرے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی سنی۔
یہ بات میرے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی سنی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَدَايَا الْأُمَرَاءِ غُلُولٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امراء کے ہدیے خیانت ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَهُوَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَرَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: " وَمَا لَكَ "؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ، قَالَ: " وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " ⦗٢٣٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اے لوگو! جس نے ہمارا کوئی کام کیا، پھر اس نے ایک سوئی بھی چھپائی تو وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ ایک انصاری آدمی نے کہا، گویا کہ میں تو اس کو دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اپنا کام (واپس) قبول کیجیے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے آپ سے یہ بات سنی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات میں اب بھی کہتا ہوں، جو عامل بنے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زِيَادٍ الْفُقَيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُهْدِي إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ سَنَةٍ فَخِذَ جَزُورٍ، قَالَ: فَجَاءَ يُخَاصِمُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَنَا قَضَاءً فَصْلًا كَمَا تَفْصِلُ الْفَخِذَ مِنَ الْجَزُورِ، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَّالِهِ: " لَا تَقْبَلُوا الْهَدْيَ، فَإِنَّهَا رِشْوَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہر سال اونٹ کی ران تحفہ میں دیتا، وہ جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمارے درمیان فیصلہ کیجیے، جیسے اونٹ کی ران اونٹ سے جدا ہوتی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ ہدیہ قبول نہ کرو؛ کیونکہ رشوت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا مَالِكٌ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ لِامْرَأَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَآهُمَا، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ لَكِ هَاتَيْنِ؟ اشْتَرَيْتِهِمَا؟ أَخْبِرِينِي، وَلَا تَكْذِبِينِي "، قَالَتْ: بَعَثَ بِهِمَا إِلِيَّ فُلَانٌ، فَقَالَ: قَاتَلَ اللهُ فُلَانًا، إِذَا أَرَادَ حَاجَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْهَا مِنْ قِبَلِي أَتَانِي مِنْ قِبَلِ أَهْلِي فَاجْتَبَذَهُمَا اجْتِبَاذًا شَدِيدًا مِنْ تَحْتِ مَنْ كَانَ عَلَيْهِمَا جَالِسًا، فَخَرَجَ يَحْمِلُهُمَا، فَتَبِعَتْهُ جَارِيَتُهَا فَقَالَتْ: إِنَّ صُوفَهُمَا لَنَا، فَفَتَقَهُمَا، وَطَرَحَ إِلَيْهَا الصُّوفَ، وَخَرَجَ بِهِمَا، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، وَأَعْطَى الْأُخْرَى امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو دو گدے تحفہ میں دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھا اور پوچھا: یہ دونوں تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ کیا تم نے انہیں خریدا ہے؟ مجھے بتاؤ اور مجھ سے جھوٹ نہ بولنا۔ اس نے کہا: یہ مجھے فلاں نے بھیجے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں کو اللہ ہلاک کرے! جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور میری جانب سے وہ کام نہیں کروا پاتا تو میرے گھر والوں کی جانب سے آتا ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ان لوگوں کے نیچے سے سختی سے کھینچ لیا جو ان پر بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ ان کی بیوی کی لونڈی ان کے پیچھے آئی اور کہنے لگی: ان کا اون ہمارا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں ادھیڑا، اون اس کی طرف پھینک دیا اور انہیں لے کر نکل گئے، پھر ایک مہاجر عورت کو اور دوسرا ایک انصاری عورت کو دے دیا۔