کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اپنے پاس داخل ہونے میں دونوں فریقین کے درمیان برابری رکھنا، ان دونوں کی بات سننا، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا یہاں تک کہ اس کی دلیل مکمل ہو جائے، اور ان دونوں کی طرف یکساں حسنِ توجہ مرکوز رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20455
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ، لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ يُتَأَوَّلُ عَلَى أَنَّ النَّاسَ فِي أَحْكَامِ الدِّينِ سَوَاءٌ، لَا فَضْلَ فِيهَا لِشَرِيفٍ عَلَى مَشْرُوفٍ، وَلَا لِرَفِيعٍ مِنْهُمْ عَلَى وَضِيعٍ، كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ، لَا تَكُونُ فِيهَا رَاحِلَةٌ، وَهِيَ الذَّلُولُ الَّتِي تَرْحَلُ وَتُرْكَبُ، وَجَاءَتْ فَاعِلَةً، بِمَعْنَى مَفْعُولَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ سو اونٹوں کی طرح ہوں گے کہ آدمی ان میں سواری کے قابل کسی کو بھی نہیں پائے گا۔“
(ب) دینی احکام میں سارے برابر ہیں، کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے۔
(ب) دینی احکام میں سارے برابر ہیں، کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ " الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کیا کہ: ”وہ دونوں حاکم کے سامنے بیٹھیں۔“
حدیث نمبر: 20457
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمُقْرِئُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلْيَعْدِلْ بَيْنَهُمْ فِي لَحْظِهِ وَإِشَارَتِهِ وَمَقْعَدِهِ ". رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْعَنَزِيِّ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ: " فِي إِشَارَتِهِ وَلَحْظِهِ وَكَلَامِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو مسلمانوں کا عہدہ قضا ملا، وہ اپنی مسند، اشارہ اور نگاہ کے ساتھ عدل کرے۔“
(ب) عبداللہ عنزی اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اپنے اشارہ، نظر اور کلام کے ساتھ انصاف کرے۔“
(ب) عبداللہ عنزی اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اپنے اشارہ، نظر اور کلام کے ساتھ انصاف کرے۔“
حدیث نمبر: 20458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُحَامِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ ⦗٢٢٩⦘ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ النَّاسِ فَلْيَعْدِلْ بَيْنَهُمْ فِي لَحْظِهِ وَإِشَارَتِهِ وَمَقْعَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کے درمیان عہدہ قضا سے آزمایا گیا، تو وہ ان کے درمیان اپنی مسند، اشارہ اور نگاہ سے انصاف کرے۔“
حدیث نمبر: 20459
وَبِهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ النَّاسِ فَلَا يَرْفَعَنَّ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ، مَا لَا يَرْفَعُ عَلَى الْآخَرِ ". هَذَا إِسْنَادٌ فِيهِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کے درمیان قاضی بنا اسے چاہیے کہ وہ اپنی نظر، اشارہ اور مسند کے ساتھ انصاف کرے۔“
حدیث نمبر: 20460
وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً، وَقِرَاءَةً، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، افْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ كَلِمَةُ حَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ، آسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ وَمَجْلِسِكَ وَعَدْلِكَ، حَتَّى لَا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلَا يَخَافَ ضَعِيفٌ مِنْ جَوْرِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط نکالا اور کہا: یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے، حمد و ثنا کے بعد! قضا کا انتہائی اہم عہدہ ہے اور ایسا طریقہ جس کی پیروی کی جائے۔ سمجھ! جب کیس پیش کیا جائے تو حق بات کے نفاذ میں کسر نہ چھوڑیں۔ لوگوں کو اپنے سامنے اپنی مجلس میں برابر رکھنا تاکہ شریف آدمی آپ کی نرمی سے لالچ نہ کر بیٹھے اور کمزور آپ کے ظلم سے خوف محسوس نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20461
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ النَّاسَ يُؤَدُّونَ إِلَى الْإِمَامِ مَا أَدَّى الْإِمَامُ إِلَى اللهِ، وَإِنَّ الْإِمَامَ إِذَا رَتَعَ رَتَعَتِ الرَّعِيَّةُ، وَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ لِلنَّاسِ نُفْرَةٌ عَنْ سُلْطَانِهِمْ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ يُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ ضَغَائِنُ مَحْمُولَةٌ، وَأَهْوَاءٌ مُتَّبَعَةٌ، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةٌ، فَأَقِيمُوا الْحَقَّ، وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن رومان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ لوگ امام کے حقوق ادا کرتے رہیں گے، جب تک امام اللہ کے حقوق ادا کرے گا۔ امام جب خوشحال زندگی بسر کرے گا تو رعایا بھی ایسی ہی زندگی بسر کرے گی۔ قریب ہے کہ لوگ اپنے بادشاہوں سے متنفر ہو جائیں۔ میں اللہ سے پناہ چاہتا ہوں کہ یہ وقت مجھے پا لے اور تم کینہ سے بچو۔ ایسی خواہشات سے بچو جن کی پیروی کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے۔ حق کو قائم کرو چاہے دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20462
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي رَوَاحَةَ يَزِيدَ بْنِ أَيْهَمَ قَالَ: " كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ: اجْعَلُوا النَّاسَ عِنْدَكُمْ فِي الْحَقِّ سَوَاءً، قَرِيبُهُمْ كَبَعِيدِهِمْ، وَبَعِيدُهُمْ كَقَرِيبِهِمْ، وَإِيَّاكُمْ وَالرِّشَا، وَالْحُكْمَ بِالْهَوَى، وَأَنْ تَأْخُذُوا النَّاسَ عِنْدَ الْغَضَبِ، فَقُومُوا بِالْحَقِّ، وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابورواحہ یزید بن ایہم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خط لکھا: تمام لوگوں کو حق میں برابر رکھو، ان کا قریبی دور والے کی مانند ہے اور دور والا قریب والے کی مانند ہے، رشوت سے بچو، خواہشات کے موافق فیصلے سے بچو، غصے کے وقت لوگوں کو چھوڑ دو، حق کو قائم کرو اگرچہ دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20463
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، ثنا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَيْنَ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَدَارٍ فِي شَيْءٍ، وَادَّعَى أُبَيٌّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَأَتَيَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَتَيْنَاكَ لِتَحْكُمَ بَيْنَنَا، وَفِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ، فَوَسَّعَ لَهُ زَيْدٌ عَنْ صَدْرِ ⦗٢٣٠⦘ فِرَاشِهِ، فَقَالَ: " هَهُنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ جُرْتَ فِي الْفُتْيَا، وَلَكِنْ أَجْلِسُ مَعَ خَصْمِي، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَادَّعَى أُبَيٌّ وَأَنْكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ زَيْدٌ لِأُبَيٍّ: أَعْفِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْيَمِينِ، وَمَا كُنْتُ لِأَسْأَلَهَا لِأَحَدٍ غَيْرِهِ، فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَقْسَمَ: لَا يُدْرِكُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْقَضَاءَ حَتَّى يَكُونَ عُمَرُ وَرَجُلٌ مِنْ عُرْضِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَهُ سَوَاءً ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ مسئلہ تھا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کر دیا، انہوں نے انکار کر دیا، وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر آئے۔ جب وہ دونوں ان کے پاس گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں اور ان کے گھر حاکم آئے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے بستر سیدھا کر دیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو نے فتویٰ میں جرأت کی ہے۔ میں اپنے جھگڑا کرنے والے ساتھیوں میں بیٹھوں گا۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: امیر المؤمنین کو معاف کر دو، میں کسی ایک سے بھی اس کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر اس نے تقسیم کر دیا تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصلہ سمجھ نہ آیا، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کا عام آدمی دونوں ان کے نزدیک برابر ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 20464
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ أَبِي عُصَيْفِيرٍ إِلَى شُرَيْحٍ يُخَاصِمُ رَجُلًا، فَجَلَسَ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ، فَقَالَ لَهُ: " قُمْ، فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِكَ، فَإِنَّ مَجْلِسَكَ يُرِيبُهُ "، فَغَضِبَ ابْنُ أَبِي عُصَيْفِيرٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: " قُمْ فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِكَ إِنِّي لَا أَدَعُ النُّصْرَةَ وَأَنَا عَلَيْهَا لَقَادِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی عصیفیر رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس جھگڑا لے کر آئے، وہ ان کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: کھڑے ہو جاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے کے ساتھ بیٹھو، آپ کا یہاں بیٹھنا شک میں ڈالتا ہے۔ ابن ابی عصفیر رحمہ اللہ کو غصہ آیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: کھڑے ہو جاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے کے ساتھ بیٹھو، میں مدد کو نہ چھوڑوں گا کہ میں اس پر قادر ہوں۔
حدیث نمبر: 20465
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ زَيْدٍ الْجَمَّالُ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْخُرَاسَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، فَإِذَا هُوَ بِنَصْرَانِيٍّ يَبِيعُ دِرْعًا، قَالَ: فَعَرَفَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الدِّرْعَ فَقَالَ: هَذِهِ دِرْعِي، بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَاضِي الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: وَكَانَ قَاضِيَ الْمُسْلِمِينَ شُرَيْحٌ، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَقْضَاهُ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى شُرَيْحٌ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَامَ مِنْ مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، وَأَجْلَسَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَجْلِسِهِ، وَجَلَسَ شُرَيْحٌ قُدَّامَهُ إِلَى جَنْبِ النَّصْرَانِيِّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَا يَا شُرَيْحُ لَوْ كَانَ خَصْمِي مُسْلِمًا لَقَعَدْتُ مَعَهُ مَجْلِسَ الْخَصْمِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَافِحُوهُمْ، وَلَا تَبْدَؤُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَلَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ، وَأَلْجِئُوهُمْ إِلَى مَضَايِقِ الطُّرُقِ، وَصَغِّرُوهُمْ كَمَا صَغَّرَهُمُ اللهُ "، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَهُ يَا شُرَيْحُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: تَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذِهِ دِرْعِي ذَهَبَتْ مِنِّي مُنْذُ زَمَانٍ، قَالَ: فَقَالَ شُرَيْحٌ: مَا تَقُولُ يَا نَصْرَانِيُّ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّصْرَانِيُّ: مَا أُكُذِّبُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الدِّرْعُ هِيَ دِرْعِي قَالَ: فَقَالَ شُرَيْحٌ: مَا أَرَى أَنْ تُخْرَجَ مِنْ يَدِهِ، فَهَلْ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: صَدَقَ شُرَيْحٌ، قَالَ: فَقَالَ النَّصْرَانِيُّ: أَمَّا أَنَا، أَشْهَدُ أَنَّ هَذِهِ أَحْكَامُ الْأَنْبِيَاءِ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَجِيءُ إِلَى قَاضِيهِ، وَقَاضِيهِ يَقْضِي عَلَيْهِ هِيَ وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ دِرْعُكَ، اتَّبَعْتُكَ مِنَ الْجَيْشِ وَقَدْ زَالَتْ عَنْ جَمَلِكَ الْأَوْرَقِ، فَأَخَذْتُهَا، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا إِذَا أَسْلَمْتَ فَهِيَ لَكَ، وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ " قَالَ: فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ يُقَاتِلُ ⦗٢٣١⦘ الْمُشْرِكِينَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي زَكَرِيَّا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: يَا شُرَيْحُ، لَوْلَا أَنَّ خَصْمِيَ نَصْرَانِيٌّ لَجَثَيْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ: فَوَهَبَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُ، وَفَرَضَ لَهُ أَلْفَيْنِ، وَأُصِيبَ مَعَهُ يَوْمَ صِفِّينَ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَيْضًا ضَعِيفٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بازار گئے، ایک نصرانی زرہ فروخت کر رہا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ پہچان لی اور کہا: ”یہ میری زرہ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کا تقاضا کیا۔ جب قاضی شریح رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین کو دیکھا تو اپنی مجلسِ قضا سے کھڑے ہو گئے اور اپنی جگہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بٹھا دیا اور قاضی شریح رحمہ اللہ ان کے سامنے نصرانی کے ایک پہلو میں بیٹھ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے شریح! اگر میرا جھگڑا کرنے والا مسلمان ہوتا تو میں جھگڑا کرنے والے کی جگہ رہتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے مصافحہ، سلام کی ابتدا، مریض کی تیمارداری نہ کرو۔ نمازِ جنازہ نہ پڑھو، ان کو تنگ راستوں کی طرف مجبور کر دو۔ ان کی تذلیل کرو جیسے اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے۔“ میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کیجیے اے شریح!“ شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! بات کریں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یہ میری زرہ چند دن پہلے گم ہو گئی تھی۔“ قاضی شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اے نصرانی! تم کیا کہتے ہو؟“ نصرانی نے کہا: ”میں امیر المؤمنین کی تکذیب نہیں کرتا، لیکن زرہ میری ہے۔“
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”میں اس کے ہاتھ سے نکالنا نہیں چاہتا، کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شریح نے سچ کہا۔“ نصرانی کہنے لگا: ”یہ انبیاء کے احکام ہیں کہ امیر المؤمنین اپنے قاضی کے پاس اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دے۔ اے امیر المؤمنین! یہ زرہ آپ کی ہے۔ میں نے لشکر سے خریدی۔ آپ کے خاکستری رنگ کے اونٹ سے گری تھی، میں نے پکڑ لی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم مسلمان ہو گئے، اب یہ آپ کی۔“ اس کو سواری کے لیے گھوڑا بھی دیا۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو مشرکین سے جہاد کرتے دیکھا ہے۔
(ب) ابن عبدان کہتے ہیں: ”اے قاضی شریح! اگر میرا جھگڑا کرنے والا نصرانی نہ ہوتا تو میں آپ کے سامنے بیٹھتا۔“ آخر میں ہے، یہ زرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو ہبہ کر دی، دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا، یہ جنگِ صفین کے دن شہید ہوئے۔
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”میں اس کے ہاتھ سے نکالنا نہیں چاہتا، کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شریح نے سچ کہا۔“ نصرانی کہنے لگا: ”یہ انبیاء کے احکام ہیں کہ امیر المؤمنین اپنے قاضی کے پاس اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دے۔ اے امیر المؤمنین! یہ زرہ آپ کی ہے۔ میں نے لشکر سے خریدی۔ آپ کے خاکستری رنگ کے اونٹ سے گری تھی، میں نے پکڑ لی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم مسلمان ہو گئے، اب یہ آپ کی۔“ اس کو سواری کے لیے گھوڑا بھی دیا۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو مشرکین سے جہاد کرتے دیکھا ہے۔
(ب) ابن عبدان کہتے ہیں: ”اے قاضی شریح! اگر میرا جھگڑا کرنے والا نصرانی نہ ہوتا تو میں آپ کے سامنے بیٹھتا۔“ آخر میں ہے، یہ زرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو ہبہ کر دی، دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا، یہ جنگِ صفین کے دن شہید ہوئے۔