کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
حدیث نمبر: 20288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " قَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ لِتَعْجَزَ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ " وَاحْتَرَفَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم جانتی ہے، میں اپنے کاروبار سے اپنے گھر والوں کا خرچہ اٹھاتا تھا، لیکن اب میں مسلمانوں کے کاموں میں مصروف ہوں، اس لیے اب آلِ ابی بکر بیت المال سے خرچ لیں گے اور میں مسلمانوں کے لیے کام کروں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20288
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20289
قَالَ وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنَ الْمَالِ، وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسَمِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيْنَ تُرِيدُ؟ "، قَالَ: " السُّوقَ "، قَالَ: " وَقَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ؟ "، قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي؟ قَالَ: " تَفْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ ". ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَذَكَرَ فِيهِ وَصِيَّتَهُ بِرَدِّ مَا أُخِذَ مِنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، نبی ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ اور ان کے گھر والے بیت المال سے خرچہ لیتے تھے اور اپنے لیے مال بھی کماتے تھے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس وقت وہ خلیفہ بنے۔۔۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف چل دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بازار کا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ کے پاس وہ ذمہ داری ہے جو آپ کو بازار سے مشغول رکھے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا میرے اہل سے بھی مجھے مصروف کر دے گی؟ فرمایا: نیکی کا فریضہ ادا کرو۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا دیا کہ بیت المال کا مال واپس کر دیا جائے جو ہم نے وصول کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20289
حدیث نمبر: 20290
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ تِجَارَةَ الْأَمِيرِ فِي إِمَارَتِهِ خَسَارَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امیر کا اپنی امارت میں تجارت کرنا خسارے کی بات ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20290
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20291
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ، عَنْ جُزِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ زَبَّانَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ رَكِبْتَ فَتَرَوَّحْتَ قَالَ عُمَرُ: " فَمَنْ يَجْزِي عَمَلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ؟ "، قَالَ: " تَجِزِيهِ مِنَ الْغَدِ "، قَالَ: " لَقَدْ كَدَحَنِي عَمَلُ يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَكَيْفَ إِذَا اجْتَمَعَ عَلَيَّ عَمَلُ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
زبان بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے کہا: آپ سوار ہوں اور رات کو کام کریں، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: اس دن کام کون کرے گا؟
کہنے لگے: دوسرے دن کر لینا، تو انہوں نے فرمایا: ایک دن کے کام نے مجھے تھکا دیا تو دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کروں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20291
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20292
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا. يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، قَالَ: " وَلَّى ابْنُ هُبَيْرَةَ الشَّعْبِيَّ الْقَضَاءَ، وَكَلَّفَهُ أَنْ يَسْمُرَ مَعَهُ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: " لَا أَسْتَطِيعُ هَذَا، أَفْرِدْنِي بِأَحَدِ الْأَمْرَيْنِ، لَا أَسْتَطِيعُ الْقَضَاءَ، وَسَمَرَ اللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے سنا، جب ابن ہبیرہ (کے دور میں) شعبی رحمہ اللہ قاضی بنے تو میں نے کہا: رات کو مجھ سے باتیں کیا کرو۔ انہوں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا؛ یا تو مجھے قاضی بنا لو یا رات کو باتیں کر لو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20292