کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس طاقتور مومن کی فضیلت کا بیان جو لوگوں کے معاملات سنبھالتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 20173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، قُلْ: قَدَرُ اللهِ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ". ⦗١٥٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قوی مومن بہتر ہے اور اللہ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب بھی ہے، حالانکہ دونوں میں بھلائی ہے، اس کا طمع کر جو تجھے نفع دے، اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز نہ آ، اگر تجھے کوئی چیز پہنچے تو یہ نہ کہہ کہ اگر میں ایسے ایسے کرتا، بلکہ کہہ: «قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ» ”جو اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا سو کیا“، کیونکہ لفظ «لَوْ» شیطان کے عمل کو کھولتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20174
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ عَمَّارُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف برداشت کرتا ہے، اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے مل جل کر نہیں رہتا اور ان کی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 20175
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن جو مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، یہ اجر میں اس مومن سے زیادہ ہے جو مل جل کر نہیں رہتا اور لوگوں کی تکالیف پر صبر بھی نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 20176
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَسْعَسَ بْنِ سَلَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: " إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَخْلُوَ بِعِبَادَةِ رَبِّي، وَأَعْتَزِلَ النَّاسَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا تَفْعَلْهُ، وَلَا يَفْعَلْهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ "، قَالَهَا ثَلَاثًا، " فَلَصَبْرُ سَاعَةٍ فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا خَالِيًا ".
حافظ ثناء اللہ
عکاس بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے اپنے ایک ساتھی کو گم پایا پھر اسے لایا گیا، اس نے عرض کیا: میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں سے جدا رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تو ایسا کر اور نہ ہی تم میں سے کوئی ایسا کرے۔“ تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ بات کہی، پھر فرمایا: ”کسی ایک گھڑی مسلمانوں کی مجالس میں صبر کر لینا، یہ چالیس سال کی تنہائی میں عبادت سے بہتر ہے۔“