کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20160
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، فَاجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: " إِنِّي أَخَافُ اللهَ "، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا، حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات آدمیوں کو اللہ اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جب کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا: (1) انصاف کرنے والا حکمران۔ (2) نوجوان جو جوانی میں اللہ کی عبادت کرے۔ (3) وہ بندہ جس کا دل مسجد سے معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں واپس لوٹے۔ (4) دو آدمی اللہ کے لیے محبت کرنے والے اور اسی کے لیے نفرت کرنے والے۔ (5) تنہائی میں اللہ کا ذکر کر کے رونے والا۔ (6) وہ آدمی جس کو خوبصورت عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہہ دے: ”میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔“ (7) پوشیدہ صدقہ کرنے والا، یعنی دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو بائیں کو پتا بھی نہ چلے۔“
حدیث نمبر: 20161
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي ⦗١٥٠⦘ خُطْبَتِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى، وَمُسْلِمٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ، الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ، لَا يَتَّبِعُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ، وَإِنْ دَقَّ، إِلَّا خَانَهُ، وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ"" وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرَ الْفَاحِشَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ: " ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، انہوں نے حدیث کا ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت کی تین اقسام ہیں: ایک وہ بادشاہ جس کو صدقہ کی توفیق دی گئی، دوسرا وہ نرم دل آدمی جو قریبی رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے (نرم دل) ہو، تیسرا وہ غریب آدمی جو پاک دامن اور صدقہ کرنے والا ہو۔ اور جہنمیوں کی پانچ اقسام ہیں: پہلا وہ کمزور آدمی جس کو عقل نہ ہو، وہ لوگ جو تمہارے تابع ہیں جو اپنے اہل و مال کو بھی تلاش نہیں کرتے، دوسرا وہ خائن آدمی اگرچہ حقیر چیز کی ہی خیانت کرتا ہو، تیسرا وہ آدمی جو اپنے اہل و مال سے دھوکا کرتا ہے، چوتھا بخل اور کذب کا تذکرہ بھی کیا، اور پانچواں بداخلاق انسان۔“
(ب) قتادہ کی روایت میں ہے کہ ”انصاف کرنے والا حکمران۔“
(ب) قتادہ کی روایت میں ہے کہ ”انصاف کرنے والا حکمران۔“
حدیث نمبر: 20162
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍالْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَمَا وُلُّوا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمن کے دائیں جانب اور رحمن کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں، وہ لوگ جو اپنے فیصلوں، اپنے گھر والوں اور جس کے وہ والی ہیں، (ان میں) انصاف کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 20163
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدَلِّهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: " وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ، وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں کی دعا اللہ رد نہیں فرماتا: 1۔ انصاف کرنے والا حکمران، 2۔ روزہ دار جب تک وہ افطار نہ کرے اور 3۔ مظلوم کی دعا؛ بادل ہٹا دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ رب العزت فرماتا ہے: ضرور میں اس کی مدد کروں گا اگرچہ ایک وقت کے بعد ہی سہی۔“
حدیث نمبر: 20164
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا، وَيُعَلِّمُهَا ". ⦗١٥١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو آدمیوں کے متعلق رشک کرنا جائز ہے: 1 جس کو اللہ نے مال دیا پھر حق میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ 2 جس کو اللہ نے حکمت عطا کی، وہ سکھاتا بھی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ بھی کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عُمَرَ، وَحَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مسلمانوں کی قضا کا عہدہ طلب کیا اور اس کو پا بھی لیتا ہے، اگر اس کا عدل ظلم پر غالب ہوتا ہے تو اس کے لیے جنت ہے، لیکن جس کا ظلم عدل پر غالب ہوا اس کے لیے جہنم ہے۔“
حدیث نمبر: 20166
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُرَيْدٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ الْقَاضِي فِي مَكَانِهِ هَبَطَ عَلَيْهِ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ وَيُرْشِدَانِهِ، مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ عَرَجَا وَتَرَكَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قاضی اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے تو دو فرشتے اس کو سیدھا رکھتے ہیں اور اس کی رہنمائی فرماتے ہیں، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔ جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ دونوں اوپر چڑھ جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 20167
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ بَرِئَ اللهُ مِنْهُ، وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے۔ جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ اس سے بری ہو جاتا ہے اور شیطان اس کو لازم پکڑ لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20168
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ صَاعِدٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ ". قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ حُسَيْنًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ اس کو اس کے نفس کے سپرد کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 20169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ ⦗١٥٢⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْقُهُنْدُزِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنِّي مَجْلِسًا: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلِيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا: إِمَامٌ جَائِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو سب سے زیادہ محبوب قیامت کے دن اور اس کے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے کے اعتبار سے عادل حکمران ہے اور قیامت کے دن اللہ کو سب سے زیادہ مبغوض شخص اور سخت عذاب والا ظالم امام ہے۔“
حدیث نمبر: 20170
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ، وَكَانَ قَاضِيَ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: لِأِيِّ مَجْلِسٍ يَعْنِي؟ " قَالَ: " كَانَ قَاضِيًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن میسرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کردوس بن قیس رحمہ اللہ سے سنا، جس سال وہ کوفہ کے قاضی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بدری صحابہ میں سے کسی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، جس نے نبی ﷺ سے سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اس مجلس میں بیٹھنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار گردنیں آزاد کروں۔“
شعبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کون سی مجلس؟ فرمایا: قاضی کی مجلس۔
شعبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: کون سی مجلس؟ فرمایا: قاضی کی مجلس۔
حدیث نمبر: 20171
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " لَأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا، وَأُوَافِقَ فِيهِ الْحَقَّ وَالْعَدْلَ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ غَزْوِ سَنَةٍ " أَوْ قَالَ: " مِائَةِ يَوْمٍ " رَفَعَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ مُنْقَطِعًا، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ مَسْرُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن ارطاۃ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قاضی کا ایک دن جس میں اسے عدل و حق کی توفیق دی گئی ہو، مجھے ایک سال کے غزوہ یا سو دن سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 20172
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ. . . " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ مَسْرُوقٌ " لَأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا بِحَقٍّ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَغْزُوَ سَنَةً فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو حاکم نہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔“ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حق کا فیصلہ کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ ایک سال تک اللہ کے راستے میں جہاد کروں۔
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حق کا فیصلہ کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ ایک سال تک اللہ کے راستے میں جہاد کروں۔