حدیث نمبر: 20149
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ} [النساء: 58]، وَقَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: 49]، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمَّالَ وَالْقُضَاةَ، وَكَذَلِكَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ، وَبِهِمُ الْقُدْوَةُ فِي الشَّرِيعَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ ”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔“ [سورة النساء: 58]
اور اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ”اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔“ [سورة المائدة: 49]
اور رسول اللہ ﷺ نے عمال (حکام) اور قاضی بھیجے، اور اسی طرح آپ ﷺ کے بعد خلفاء نے بھی (بھیجے)، اور شریعت میں انہی کی اقتدا کی جاتی ہے، اور توفیق اور حفاظت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
اور اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ ”اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔“ [سورة المائدة: 49]
اور رسول اللہ ﷺ نے عمال (حکام) اور قاضی بھیجے، اور اسی طرح آپ ﷺ کے بعد خلفاء نے بھی (بھیجے)، اور شریعت میں انہی کی اقتدا کی جاتی ہے، اور توفیق اور حفاظت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
حدیث نمبر: 20149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى نَجْرَانَ، فَشَكَوْهُ، فَقَالَ: " لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نجران پر ایک آدمی کو حاکم بنا کر روانہ کیا تو اہل نجران نے اس کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے اندر ایک امین آدمی کو بھیج دوں گا، جو امانت کا حق بھی ادا کرے گا“ تو آپ ﷺ کے صحابہ نے (اشتیاق سے) دیکھا تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔
حدیث نمبر: 20150
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا ". قَالَ: وَكَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فُسْطَاطٌ، يَزُورُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فِيهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَوَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت پیدا نہ کرنا۔ آپس میں موافقت رکھنا، اختلاف نہ پیدا کرنا۔“ ان دونوں رضی اللہ عنہما میں سے ہر ایک کے خیمہ میں «الْفُسْطَاطُ» تھا جس میں روزانہ وہ ایک دوسرے کی زیارت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 20151
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ لَمَّا بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ يُوصِيهِ بِوَصِيَّةٍ، وَمُعَاذٌ ⦗١٤٨⦘ رَاكِبٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " يَا مُعَاذُ أَنْتَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِيَ بَعْدَ عَامِي هَذَا، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي وَقَبْرِي ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا فِي بَعْثَتِهِ الثَّانِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے ان کو یمن کی طرف روانہ کیا، نبی ﷺ ان کے ساتھ نکلے اور وصیت فرما رہے تھے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے، جبکہ نبی ﷺ پیدل چل رہے تھے، جب وصیت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے معاذ! ممکن ہے آئندہ سال تو مجھے نہ مل سکے، شاید تیرا گزر میری مسجد اور میری قبر کے پاس ہو۔“
حدیث نمبر: 20152
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا۔
حدیث نمبر: 20153
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا - يَعْنِي: إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي شَابٌّ، وَتَبْعَثُنِي إِلَى أَقْوَامٍ ذَوِي أَسْنَانٍ قَالَ: فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ فَسَمِعْتَ مِنْ أَحَدِهِمَا، فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنَّهُ أَثْبَتُ لَكَ " قَالَ: " فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر روانہ کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نوجوان ہوں اور آپ مجھے بڑی عمر والوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے مجھے دعائیں دیں اور فرمایا: ”دو جھگڑا کرنے والوں میں سے ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کی بات نہ سن لی جائے، یہ زیادہ بہتر ہے۔“ فرماتے ہیں: اس کے بعد میرے اوپر کوئی فیصلہ مختلف نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 20154
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، لَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: " انْطَلِقْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ " قَالَ: " فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن روانہ کیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نوجوان ہوں، مجھے فیصلوں کے بارے میں علم نہیں ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے گا اور آپ کی زبان کو بھی ثابت رکھے گا۔“ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی شک بھی محسوس نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 20155
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا رَجُلٌ حَدِيثُ السِّنِّ، لَا عَلِمَ لِي بِكَثِيرٍ مِنَ الْقَضَاءِ؟ قَالَ: فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ "، فَمَا أَعْيَانِي قَضَاءٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف روانہ کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے روانہ کر رہے ہیں اور میں نوجوان آدمی ہوں، اکثر فیصلوں کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے گا اور تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔“ اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
حدیث نمبر: 20156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: لَمَّا وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَلَّى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الْقَضَاءَ، وَوَلَّى أَبَا عُبَيْدَةَ ⦗١٤٩⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَالَ، وَقَالَ: " أَعَينُونِي "، فَمَكَثَ عُمَرُ سَنَةً لَا يَأْتِيهِ اثْنَانِ، أَوْ لَا يَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قاضی بنایا اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا خزانچی مقرر فرمایا اور فرمایا: میری مدد فرمانا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک سال تک قاضی رہے، صرف دو فیصلے ان کے پاس آئے یا تو انہوں نے صرف دو فیصلے کیے۔
حدیث نمبر: 20157
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: " إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْقَضَاءِ، وَبَيْتِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر بن شقیق فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابو وائل سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو قاضی اور بیت المال کا خزانچی مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 20158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَعَثَ ابْنَ سُورٍ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ وَبَعَثَ شُرَيْحًا عَلَى قَضَاءِ الْكُوفَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا اور شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 20159
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَكَانَ يَقْضِي بَيْنَ أَهْلِ دِمَشْقَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَنْ تَرَى لِهَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: " فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
خالد بن یزید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ پر موت کا وقت آیا تو وہ دمشق کے قاضی تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابودرداء! آپ اس عہدے کے لیے کس کو مناسب سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو۔