کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے چھوڑنے (خچر پیدا کرنے) کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَرَكِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ حَمَلْنَا الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ، فَكَانَ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ هَكَذَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنِ اللَّيْثِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ هِشَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا، آپ ﷺ نے اس پر سواری فرمائی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اگر ہم گدھے کو گھوڑی سے جفتی کروائیں تو ہمارے لیے بھی ایسا حاصل ہو جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَأَعْجَبَتْنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نُنْزِي الْحُمُرَ عَلَى خَيْلِنَا، حَتَّى تَأْتِيَ بِمِثْلِ هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا۔ وہ ہمیں بہت پسند آیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے چھوڑیں تو ہمارے لیے بھی ایسے حاصل ہو جائیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَهْدَى صَاحِبُ أَيْلَةَ، أَوْ فَرْوَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَنْزَيْنَا الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ الْعِرَابِ لَجَاءَنَا مِثْلُ هَذِهِ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ "، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایلہ یا فروہ والوں نے نبی ﷺ کو ایک سفید خچر ہدیے میں دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے چھوڑیں تو ہمیں بھی اس طرح کے خچر حاصل ہو جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔“
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٤٠⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زُرْعَةَ -، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنُنْزِي الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا يَعْمَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن علقمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا ہم گدھے کو گھوڑی پر چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔“
(ب) ابن صباح کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کو خچر یا خچری تحفہ میں دی گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خچر یا خچری۔ گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے چھوڑا جاتا ہے تو اس سے یہ پیدا ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم فلاں (گدھے) کو (فلانہ) گھوڑی پر چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“
(ب) ابن صباح کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کو خچر یا خچری تحفہ میں دی گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خچر یا خچری۔ گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے چھوڑا جاتا ہے تو اس سے یہ پیدا ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم فلاں (گدھے) کو (فلانہ) گھوڑی پر چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ، وَنَهَانَا - وَلَا أَقُولُ: نَهَاكُمْ - أَنْ نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ ". كَذَا. قَالَهُ الثَّوْرِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: عُبَيْدُ اللهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فِيمَا رَوَى عَنْهُ الطَّيَالِسِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ”وضو مکمل کرنے“ کا حکم دیا اور ہمیں منع فرمایا اور میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا کہ ”ہم صدقہ نہ کھائیں اور گدھے کو گھوڑی پر مت چھوڑیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ، إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں بنو ہاشم کے نوجوانوں میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس حدیث میں جو نبی ﷺ سے ذکر فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”ہمیں تین چیزوں میں دوسروں سے الگ خاص کیا: 1 ہم وضو مکمل کریں۔ 2 ہم صدقہ نہ کھائیں۔ 3 گدھے کو گھوڑی پر مت چھوڑیں۔“