السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: كراهية إنزاء الحمر على الخيل باب: گدھوں کو گھوڑیوں پر جفتی کے لیے چھوڑنے (خچر پیدا کرنے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19787
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٤٠⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي زُرْعَةَ -، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنُنْزِي الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا يَعْمَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ.حافظ ثناء اللہ
علی بن علقمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا ہم گدھے کو گھوڑی پر چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔“
(ب) ابن صباح کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کو خچر یا خچری تحفہ میں دی گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خچر یا خچری۔ گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے چھوڑا جاتا ہے تو اس سے یہ پیدا ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا ہم فلاں (گدھے) کو (فلانہ) گھوڑی پر چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔“