حدیث نمبر: 19790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ⦗٤١⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَخِصَاءِ الْبَهَائِمِ ". قَالَ الْعَبَّاسُ لَمْ يَرْوِهِ خَلْقٌ إِلَّا عُبَيْدُ اللهِ، وَهُوَ يُسْتَغْرَبُ عَنْهُ، قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ الْعَبَّاسُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”جاندار کو چارے سے روکنا اور چوپاؤں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
حدیث نمبر: 19791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ، قِيَاسٌ عَلَى مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَهُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ عُبَيْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مُرْسَلًا، وَجَعَلَ الْكَلَامَ فِي الْإِخْصَاءِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن موسیٰ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ ”جاندار کو زبردستی چارے سے روکنے اور چوپاؤں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: جانوروں کو خصی کرانا انتہائی صبر ہے، اس کا حکم جاندار کو چارے سے روکنے پر قیاس کیا گیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جانوروں کو خصی کرانا انتہائی صبر ہے، اس کا حکم جاندار کو چارے سے روکنے پر قیاس کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 19792
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الْإِخْصَاءِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالِإخْصَاءُ صَبْرٌ شَدِيدٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، مُرْسَلًا، وَذَكَرَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ الْخِصَاءَ، كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذَا الْخَبَرِ مَا رَوَاهُ الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ لِمُتَابَعَةِ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، وَاللهُ أَعْلَمَ، وَرُوَيَ فِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے خصی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ”جاندار کو چارے سے روکنے سے منع فرمایا ہے“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خصی کرنا یہ تو سخت قسم کا باندھنا ہے۔
حدیث نمبر: 19793
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا إِخْصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا بُنْيَانَ كَنِيسَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں خصی ہونا نہیں اور نہ ہی یہود کے عبادت خانوں کی بنیاد رکھنا ہے، یعنی تعمیر کرنا۔“
حدیث نمبر: 19794
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ إِخْصَاءَ الْبَهَائِمِ، وَيَقُولُ: " لَا تَقْطَعُوا نَامَيَةَ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَ "، هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، مَوْقُوفٌ، ⦗٤٢⦘ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ چوپاؤں میں خصی کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے: ”اللہ کی مخلوق کے اندر تبدیلی نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 19795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عُمَرَ الصَّحَّافُ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ "، وَقَالَ: " إِنَّمَا النَّمَاءُ فِي الْحَبَلِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ جُبَارَةُ أَيْضًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَهَذَا الْمَتْنُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَشْبَهُ، فَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ فِيهِ ضَعْفٌ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اونٹوں، بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”نسل کا بڑھنا گھوڑوں میں ہوتا ہے۔“
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، " فِي قَوْلِهِ {وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ} [النساء: ١١٩] قَالَ: يَعْنِي إِخْصَاءَ الْبَهَائِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 119] ”البتہ میں ضرور ان کو حکم دوں گا وہ اللہ کی مخلوق میں تبدیلی کر دیں گے“ کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس سے مراد جانوروں کو خصی کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 19797
قَالَ: وَحَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: " يَعْنِي الْفِطْرَةَ: الدِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی دین کی فطرت میں۔
حدیث نمبر: 19798
قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " يَعْنِي: دِينَ اللهِ ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَتَادَةَ مِثْلَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ بَشِيرٍ قَالَ: " أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْصِي بَغْلًا لَهُ فِي خِلَافَتِهِ "، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخِصَاءِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ "، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ أَخْصَى بَغْلًا لَهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِخْصَاءِ الْخَيْلِ، لَوْ تُرِكَتِ الْفُحُولُ لَأَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَعَنْ عَطَاءٍ: مَا خِيفَ عِضَاضُهُ وَسُوءَ خُلُقِهِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمُتَابَعَةُ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَعَ مَا فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الْمَرْوِيَّةِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ، وَيُحْتَمَلُ جَوَازُ ذَلِكَ إِذَا اتِّصَلَ بِهِ غَرَضٌ صَحِيحٌ، كَمَا حَكَيْنَا عَنِ التَّابِعِينَ، وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا تَضْحِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ وَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ تَطْيِيبِ اللَّحْمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے دین میں۔
بسیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔
بسیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔