کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جانوروں کو خصی کرنے کی کراہت کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ⦗٤١⦘ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَخِصَاءِ الْبَهَائِمِ ". قَالَ الْعَبَّاسُ لَمْ يَرْوِهِ خَلْقٌ إِلَّا عُبَيْدُ اللهِ، وَهُوَ يُسْتَغْرَبُ عَنْهُ، قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ الْعَبَّاسُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”جاندار کو باندھ کر مارنے اور چوپاؤں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
عباس فرماتے ہیں: اسے عبیداللہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، اور ان سے یہ روایت غریب سمجھی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19790
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قوله وخصاء البهاتم»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ: وَإِخْصَاءُ الْبَهَائِمِ صَبْرٌ شَدِيدٌ، قِيَاسٌ عَلَى مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ صَبْرِ الرُّوحِ، وَهُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ عُبَيْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مُرْسَلًا، وَجَعَلَ الْكَلَامَ فِي الْإِخْصَاءِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن موسیٰ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”جاندار کو باندھ کر مارنے سے (منع فرمایا)، اور چوپاؤں کو خصی کرنا بھی سخت قسم کا باندھنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ان کا یہ قول کہ ”چوپاؤں کو خصی کرنا سخت قسم کا باندھنا ہے“ اس چیز پر قیاس ہے جس سے منع کیا گیا ہے یعنی جاندار کو باندھ کر مارنا، اور یہ زہری رحمہ اللہ کا قول ہے؛ کیونکہ عبیداللہ کے علاوہ دوسروں نے اسے ابن ابی ذئب سے مرسل روایت کیا ہے اور خصی کرنے والی بات کو زہری کا قول قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19791
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قوله وخصاء البهائم»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الْإِخْصَاءِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الرُّوحِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالِإخْصَاءُ صَبْرٌ شَدِيدٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، مُرْسَلًا، وَذَكَرَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ الْخِصَاءَ، كَمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذَا الْخَبَرِ مَا رَوَاهُ الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ لِمُتَابَعَةِ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، وَاللهُ أَعْلَمَ، وَرُوَيَ فِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے خصی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ”جاندار کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے“، زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خصی کرنا یہ تو سخت قسم کا باندھنا ہے۔
یونس اور معمر نے بھی زہری سے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے، اور اس روایت میں محفوظ وہی ہے جو عقدی نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، کیونکہ معمر اور یونس نے ان کی متابعت کی ہے۔ اور اس بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور سند سے بھی روایت کیا گیا ہے جس میں ضعف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19792
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قوله وخصاء البهائم»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا إِخْصَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا بُنْيَانَ كَنِيسَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں خصی ہونا نہیں اور نہ ہی یہود کے عبادت خانوں کی بنیاد رکھنا ہے، یعنی تعمیر کرنا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19793
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ إِخْصَاءَ الْبَهَائِمِ، وَيَقُولُ: " لَا تَقْطَعُوا نَامَيَةَ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَ "، هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، مَوْقُوفٌ، ⦗٤٢⦘ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ چوپاؤں میں خصی کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے: ”اللہ کی مخلوق کے اندر تبدیلی نہ کرو۔“
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، اور اسے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19794
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عُمَرَ الصَّحَّافُ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ "، وَقَالَ: " إِنَّمَا النَّمَاءُ فِي الْحَبَلِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ جُبَارَةُ أَيْضًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ جُبَارَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَهَذَا الْمَتْنُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَشْبَهُ، فَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ فِيهِ ضَعْفٌ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اونٹوں، بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”نسل کا بڑھنا تو صرف حمل سے ہوتا ہے۔“
(ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”کیا نسل مذکروں کی وجہ سے نہیں بڑھتی؟“
(ج) ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ گھوڑوں کو خصی نہ کیا جائے اور گھوڑے کو دو سو کے درمیان نہ بھگایا جائے۔
یہ متن عبداللہ بن نافع والی سند کے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع میں ایسا ضعف ہے جس کی وجہ سے موقوف روایات کو مرفوع بیان کر دینا ان سے بعید نہیں۔ اور یہ موسیٰ بن یسار عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19795
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، " فِي قَوْلِهِ {وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ} [النساء: ١١٩] قَالَ: يَعْنِي إِخْصَاءَ الْبَهَائِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 119] ”البتہ میں ضرور ان کو حکم دوں گا وہ اللہ کی مخلوق میں تبدیلی کر دیں گے“ کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس سے مراد جانوروں کو خصی کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19796
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ: " يَعْنِي الْفِطْرَةَ: الدِّينَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی دین کی فطرت میں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19797
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ: وَقَالَ: حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " يَعْنِي: دِينَ اللهِ ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ، وَسَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَتَادَةَ مِثْلَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ بَشِيرٍ قَالَ: " أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْصِي بَغْلًا لَهُ فِي خِلَافَتِهِ "، وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخِصَاءِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ "، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ أَخْصَى بَغْلًا لَهُ، وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِخْصَاءِ الْخَيْلِ، لَوْ تُرِكَتِ الْفُحُولُ لَأَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَعَنْ عَطَاءٍ: مَا خِيفَ عِضَاضُهُ وَسُوءَ خُلُقِهِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمُتَابَعَةُ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَعَ مَا فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الْمَرْوِيَّةِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ، وَيُحْتَمَلُ جَوَازُ ذَلِكَ إِذَا اتِّصَلَ بِهِ غَرَضٌ صَحِيحٌ، كَمَا حَكَيْنَا عَنِ التَّابِعِينَ، وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا تَضْحِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ وَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ تَطْيِيبِ اللَّحْمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے دین میں۔
حسن، سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہم اللہ سے بھی ابراہیم کے قول کی مثل منقول ہے۔
بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے دوران مجھے حکم دیا کہ میں ان کے خچر کو خصی کر دوں۔ حسن رحمہ اللہ سے خصی کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے اپنے خچر کو خصی کیا تھا۔
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گھوڑے کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر سانڈ چھوڑ دیے جائیں تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کے کاٹنے اور بری عادات کا ڈر ہو اس کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قول کی پیروی، اس سنت کے ساتھ جو اس بارے میں مروی ہے، زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اور جب اس کے ساتھ کوئی صحیح غرض وابستہ ہو تو اس کے جائز ہونے کا احتمال ہے، جیسا کہ ہم نے تابعین سے نقل کیا ہے۔
نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”آپ ﷺ نے دو خصی مینڈھے قربان کیے“ اور ان کا گوشت بھی لذیذ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19798
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»