کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَا نَدَبَ بِهِ أَهْلَ دِينِهِ: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ} [الأنفال: 60] فَزَعَمَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالتَّفْسِيرِ، أَنَّ الْقُوَّةَ هِيَ الرَّمْيُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ نے اپنے دین والوں کو جس بات کی ترغیب دی ہے اس میں فرمایا: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾ ”اور ان (کے مقابلے) کے لیے جتنی تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑے (بھی)، جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوف زدہ رکھو۔“ [سورة الأنفال: 60]
تو علم تفسیر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ (اس آیت میں) قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْآجُرِّيُّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: ٦٠]، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾ [سورة الأنفال: 60] ”ان کے ساتھ مقابلہ کے لیے جس قدر ممکن ہو تیار رکھو۔“ ”اس آیت میں «الْقُوَّةُ» سے مراد تیر اندازی ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ کلمات تین بار دہرائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1917»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرَضُونَ، وَيَكْفِيكُمُ اللهُ الْمُؤْنَةَ، فَلَا يَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”عنقریب تم علاقے فتح کرلو گے اور اللہ تمہاری مشقت سے کافی ہوجائے گا، خبردار! تمہیں کوئی بھی چیز اپنے تیروں سے غافل نہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19728
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1918»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، أَنَّ فَقِيمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ ⦗٢٣⦘ الْغَرَضَيْنِ، وَأَنْتَ كَبِيرٌ، يَشُقُّ عَلَيْكَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِهِ قَالَ: الْحَارِثُ، فَقَالَ ابْنُ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ إِنَّهُ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، أَوْ قَدْ عَصَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں، یہ آپ پر مشکل ہوتا ہے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں نے یہ کلام رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا۔ حارث کہتے ہیں کہ ابن شماسہ رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”تیر اندازی جان لینے کے بعد یا سیکھ لینے کے بعد، جس نے اس کو چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں“ یا فرمایا: ”اس نے نافرمانی کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19729
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1919»
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ الَّذِي تَرَكَهُ، فَلَيْسَ مِنَّا، أَوْ قَدْ عَصَى " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أنبأ اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن شماسہ رحمہ اللہ سے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی سیکھی اور چھوڑ دیا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے“ یا فرمایا: ”اس نے نافرمانی کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19730
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا أُرَامِي عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ فَمَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا خَالِدُ، تَعَالَ أُحَدِّثْكَ مَا حَدَّثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ الَّذِي احْتَسَبَ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَمُنْبِلَهُ، وَالرَّامِيَ، ارْمُوا، وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ زَوْجَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِنَبْلِهِ عَنْ قَوْسِهِ، وَمَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک تیر انداز آدمی تھا، میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر تیر اندازی کرتا تھا، ایک دن وہ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، ہم تیر اندازی کریں“، لیکن میں نے تھوڑی دیر کر دی تو انہوں نے فرمایا: ”خالد! جلدی آؤ، میں تمہیں وہ بیان کروں جو مجھے نبی ﷺ نے بیان فرمایا تھا، یا میں تجھے وہ بات کہوں جو نبی ﷺ نے فرمائی تھی“۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ایک تیر کی وجہ سے تین اشخاص جنت میں داخل ہوں گے: (1) تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے، (2) تیر چلانے والا، (3) تیر انداز کو تیر پکڑانے والا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو، گھڑ سواری کی نسبت تیر اندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین چیزیں کھیل میں شمار نہیں ہوتیں: (1) اگر کوئی شخص گھوڑے کو سکھاتا ہے، (2) اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، (3) اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرتا ہے، اور جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تو اس نے نعمت کی ناشکری کی“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19731
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَزْرَقِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ بِصَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَالْمُمِدَّ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے: تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے، تیر چلانے والا اور اس کا تعاون کرنے والا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19732
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَكُلُّ شَيْءٍ يَلْهُوَ بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، أَوْ تَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، أَوْ مُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ تَرَكَ ⦗٢٤⦘ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِمَهُ "، كَذَا فِي كِتَابِ ابْنِ يَزِيدَ، وَقَالَ غَيْرُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو، اور تیر اندازی مجھے گھڑ سواری سے زیادہ پسند ہے۔ تمام قسم کی کھیلیں جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، لیکن تیراندازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے چھیڑچھاڑ کرنا یہ درست ہیں۔ تیر اندازی سیکھنے کے بعد چھوڑنا ایسے ہے جیسے اس نے کسی چیز کو جاننے کے بعد کفر کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19733
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَعَهُ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ فَقَالَ: " اطْرَحْهَا، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَوْسِ الْعَرَبِيَّةِ، فَقَالَ: بِهَذِهِ، وَرِمَاحِ الْقَنَا يُمَكِّنُ اللهُ لَكُمْ بِهَا فِي الْبِلَادِ، وَيَنْصُرُكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ "، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُوَيْمٍ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عویم، اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ہاتھ میں فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: ”اس کو پھینک دو۔“ آپ ﷺ نے عربی کمان کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کمانوں اور قنا کے نیزوں کی وجہ سے اللہ تمہیں ان شہروں پر غلبہ دے گا اور دشمنوں کے خلاف تمہیں مدد فراہم کرے گا۔“
اسے روایت کرنے میں محمد بن طلحہ منفرد ہیں اور اس میں انقطاع ہے، عبدالرحمن بن عویم صحابی نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19734
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْسًا فَارِسِيًّا، فَقَالَ: " مَلْعُونٌ، مَلْعُونٌ مَنْ حَمَلَهَا عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ "، وَأَشَارَ إِلَى الْقَوْسِ الْعَرَبِيَّةِ، وَبِرِمَاحِ الْقَنَا يُمَكِّنُ اللهُ لَكُمْ فِي الْبِلَادِ، وَيَنْصُرُكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: عُتْبَةُ بْنُ عُوَيْمٍ لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: ”جو اس کو اٹھائے گا، وہ ملعون ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عربی کمان اور قنا کے نیزوں کو لازم پکڑو، ان کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف مدد کرے گا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عتبہ بن عویم کی حدیث صحیح نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19735
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: عَمَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ بِعِمَامَةٍ سَدَلَهَا خَلْفِي، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ أَمَدَّنِي يَوْمَ بَدْرٍ، وَحُنَيْنٍ بِمَلَائِكَةٍ يُعْتِمُونَ هَذِهِ الْعِمَّةَ "، وَقَالَ: " إِنَّ الْعِمَامَةَ حَاجِزَةٌ بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ "، وَرَأَى رَجُلًا يَرْمِي بِقَوْسٍ فَارِسِيَّةٍ فَقَالَ: " ارْمِ بِهَا "، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى قَوْسٍ عَرَبِيَّةٍ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَمْثَالِهَا، وَرِمَاحِ الْقَنَا، فَإِنَّ بِهَذِهِ يُمَكِّنُ اللهُ لَكُمْ فِي الْبِلَادِ، وَيُؤَيِّدُكُمْ فِي النَّصْرِ "، أَشْعَثُ - هُوَ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَخَالَفَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ فَرَوَاهُ ⦗٢٥⦘ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ هَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے غدیرِ خم کے دن پگڑی پہنائی اور اس کا ایک کنارہ میرے پیچھے کی جانب لٹکا دیا۔ پھر فرمایا: ”اللہ نے بدر اور حنین کے دن ایسی پگڑی پہنے ہوئے فرشتوں سے میری مدد فرمائی“ اور فرمایا: ”یہ عمامہ کفر و ایمان کے درمیان رکاوٹ ہے“ اور آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا، جو فارسی کمان سے تیر اندازی کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پھینک دو“۔ پھر آپ نے عربی کمان دیکھی تو فرمایا: ”اس جیسی یا اس کو لازم پکڑو اور نیزے، جس کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دیں گے اور تمہارے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے“۔
اشعث، ابو الربیع السمان ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ اسماعیل بن عیاش نے ان کی مخالفت کی اور اسے اسی عبداللہ بن بسر سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عدی بہرانی سے، انہوں نے اپنے بھائی عبدالاعلیٰ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے منقطع روایت کیا ہے۔ اور یہ عبداللہ بن بسر قوی نہیں ہے، یہ بات ابوداؤد سجستانی وغیرہ نے کہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19736
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ عَائِشَةَ: قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ: إِنَّمَا نَهَى عَنِ الْقَوْسِ الْفَارِسِيَّةِ لِأَنَّهَا إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُهَا لَمْ يَنْتَفِعْ بِهَا صَاحِبُهَا، وَأَنَّ الْقَوْسَ الْعَرَبِيَّةَ إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُهَا كَانَتْ لَهُ عَصًا يَدِبُّ بِهَا، قَالَ: وَكَانَتْ مَعَهُمْ رِمَاحُ خَشَبٍ، فَكَانُوا إِذَا طَعَنُوا بِهَا أَخَذَهَا الْمَطْعُونُ فَكَسَرَهَا، فَأَمَرَهُمْ بِرِمَاحِ الْقَنَا لِكَيْ إِذَا طَعَنَ الرَّجُلُ، فَأَخَذَهُ الْمَطْعُونُ انْثَنَى، وَلَمْ يَنْكَسِرْ، وَكَانَتْ تُحْمَلُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن ابن عائشہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم حدیث نے کہا ہے: آپ ﷺ نے فارسی کمان سے اس لیے منع فرمایا کہ جب فارسی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو اس کا صاحب اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، لیکن جب عربی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو وہ اس کے سہارے چلنے کا کام لیتا ہے، ان کے پاس لکڑی کے نیزے ہوتے تھے، جب مارا جاتا تو دوسرا پکڑ کر اس کو توڑ دیتا، لیکن آپ ﷺ نے ایسے نیزوں کا مطالبہ کیا جو دوہرا تو ہو جائے لیکن ٹوٹے نہ، اور یہ نیزے بحرین سے لائے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19737
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ " أَمَّا بَعْدُ: " فَاتَّزِرُوا وَانْتَعِلُوا وَارْتَدُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ وَعَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ أَبِيكُمْ إِسْمَاعِيلَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ، وَزِيَّ الْعَجَمِ، وَعَلَيْكُمْ بِالشَّمْسِ، فَإِنَّهَا حَمَّامُ الْعَرَبِ، وَتَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَاخْلَوْلِقُوا، وَاقْطَعُوا الرَّكْبَ وَانْزُوا عَلَى الْخَيْلِ نَزْوًا، وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ، وَامْشُوا مَا بَيْنَهَا، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ "..
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے فرمایا: تہبند باندھو، جوتے پہنو، چادر اوڑھ لو، موزے اور شلواریں اتار دو اور اپنے باپ اسماعیل علیہ السلام کا لباس پہنو، عیش و عشرت اور عجمیوں کی مشابہت سے بچو، دھوپ کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے اور معد (بن عدنان) کی طرح سادہ زندگی اختیار کرو، سخت جان بنو اور پرانے کپڑے پہنو، رکابیں کاٹ دو اور گھوڑوں پر اچھل کر سوار ہوا کرو، نشانوں پر تیر اندازی کرو اور ان کے درمیان پیدل چلو۔ اور (راوی نے) باقی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19738
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْفَرَائِضِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ قَالَ: وَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمُ غَرْبٍ فَأَصَابَ غُلَامًا، فَقُتِلَ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبَدَانَ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحٍ الْبَزَّازُ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
کتاب الفرائض میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ بچوں کو تیراکی سکھاؤ اور جنگجو کو تیر اندازی۔ وہ مختلف اہداف پر نشانہ بازی کر رہے تھے تو ایک اجنبی تیر آیا اور غلام کو لگا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گیا۔
(ب) حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19739
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ تقدم برقم 6/ 12207»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي سَعْدٍ الْهَرَوِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ⦗٢٦⦘ الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مِعْبَدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَجَبَتْ مَحَبَّتِي عَلَى مَنْ سَعَى بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ بِقَوْسِي، لَا بِقَوْسِ كِسْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس بندے کے لیے میری محبت واجب ہوگئی جس نے نشانہ بازی کے لیے کوشش کی، میری قوس (یعنی عربی کمان سے) سے نہ کہ فارسی قوس سے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19740
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَرْقَدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ الْجَزَرِيَّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ - يَعْنِي: ابْنَ بُخْتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَجَابِرَ بْنَ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَرْتَمِيَانِ، فَمَلَّ أَحَدُهُمَا فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: أَجَلَسْتَ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللهِ، فَهُوَ سَهْوٌ وَلَهْوٌ، إِلَّا أَرْبَعًا: مَشْيَ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَتَعَلُّمَهُ السِّبَاحَةَ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ "، تَابَعَهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَزَرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ اور جابر بن عمیر رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا کہ وہ تیر اندازی کر رہے تھے، ان میں سے ایک تھک کر بیٹھ گیا تو دوسرے نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا آپ بیٹھ گئے ہیں؟ کیا آپ نے نبی ﷺ سے سنا نہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جس میں اللہ کا ذکر نہیں وہ کھیل تماشا ہے، سوائے چار چیزوں کے: آدمی کا نشانہ بازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، تیراکی سیکھنا اور اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19741
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّرَّاجِ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِلْوَلَدِ عَلَيْنَا حَقٌّ، كَحَقِّنَا عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: " نَعَمْ حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُعَلِّمَهُ الْكِتَابَةَ، وَالسِّبَاحَةَ، وَالرَّمْيَ، وَأَنْ يُوَرِّثَهُ طَيِّبًا "، هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ هَذَا مِنْ شُيُوخِ بَقِيَّةَ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اولاد کے بھی والدین پر حق ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اولاد کا حق والدین پر یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے اور اس کے لیے پاکیزہ ترکہ چھوڑے۔“
یہ حدیث ضعیف ہے، یہ عیسیٰ بن ابراہیم ہاشمی بقیہ کے شیوخ میں سے ہے، منکر الحدیث ہے، یحییٰ بن معین، بخاری اور دیگر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19742
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»