حدیث نمبر: 19745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ، لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هُوَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا، كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَسِتْرًا، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي رِقَابِهَا، وَلَا ظُهُورِهَا، فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ "، وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: " مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے تین قسم کے ہیں: ایک آدمی کے لیے اجر کا باعث، دوسرا آدمی کے لیے پردہ ہے اور تیسرا آدمی پر بوجھ ہے۔ وہ گھوڑا جو آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے، انسان اس کو اللہ کے راستے میں باندھتا ہے، اس کی رسی چراگاہ یا باغ میں لمبی کر دیتا ہے۔ وہ رسی کی لمبائی تک چراگاہ اور باغیچے سے جو کچھ کھاتا ہے تو اس کی نیکیاں اس آدمی کو ملتی ہیں۔ اگر اس کی وہ رسی ٹوٹ جاتی ہے تو اس کے نشاناتِ قدم اور گوبر کا بھی اس کو ثواب ملے گا۔ اگر وہ نہر سے گزرتے ہوئے پانی پی لیتا ہے جس کا اس نے قصد نہیں کیا تو اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ جس نے گھوڑا باندھا بے نیاز ہو کر پاکدامنی اور پردے کے لیے، پھر وہ اس میں اللہ کا حق اس کی گردن اور پیٹھ میں نہیں بھولتا تو یہ اس کے لیے پردہ ہے۔ جس نے گھوڑا رکھا فخر و ریاکاری کے لیے اور اہل اسلام کی مشقت کے لیے تو یہ اس کے لیے وبال اور بوجھ ہوگا۔“ رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بارے میں ایک جامع آیت نازل ہوئی ہے: ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8]۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19745
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»