کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ، فَجَعَلَ يَصْرِفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ "، وَذَكَرَ أَصْنَافَ الْأَمْوَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ عِنْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک ایک آدمی اونٹ پر سوار آیا وہ دائیں بائیں گھوم رہا تھا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو، وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔“ اس طرح آپ ﷺ نے مال کی اقسام ذکر کیں تو ہم نے خیال کیا کہ زائد مال میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں۔
حدیث نمبر: 19667
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم بھوکوں کو کھلایا کرو، بیمار کی تیمار داری کرو اور گردنوں کو آزاد کرو۔“
حدیث نمبر: 19668
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُسَاوِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يُبَخِّلُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ، وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ "، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مساور فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو بخل کی جانب منسوب کر رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”وہ شخص مومن نہیں جو بذات خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہا۔“
حدیث نمبر: 19669
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شُعْبَةُ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَافَرَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْمَلُوا، فَأَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى، أَوِ الشِّرَى، فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ، فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَذَهَبَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَشْفَقَتِ الْأَنْصَارُ مِنْ ذَلِكَ، فَهَمَّ بِهِمْ عُمَرُ ⦗٦⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِيلِ مَا يُخْلِفُ اللهُ فِي ضُرُوعِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ؛ ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ "، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کے لوگوں نے سفر کیا، وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے تو ان سے مہمان نوازی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان کو پکڑ کر تکلیف بھی دی۔ دیہاتی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انصاری ڈر گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تکلیف دینے کا قصد کیا اور فرمایا: تم مسافروں سے اونٹوں، بکریوں کے دودھ رات اور دن کے وقت روکتے ہو۔ حالانکہ مسافر پانی کا زیادہ حق دار ہے، جس پر وہ واقع ہوتا ہے۔ یحییٰ بن آدم کی روایت میں ہے کہ انصاری ایک دیہات کے قریب سے گزرے۔ انہوں نے مہمانی کا سوال کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، لیکن انہوں نے زبردستی دودھ دوہ لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دن اور رات کے اوقات میں جانوروں کے دودھ جو اللہ پیدا کرتا ہے روک لیتے ہو۔ مسافر تو پانی کا زیادہ حق دار ہے جو صبر کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 19670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ وَاقِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: " ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ وَالظِّلِّ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر آدمی پانی کا اور سائے کا زیادہ حق دار ہے، کیونکہ وہ صابر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 19671
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ آدَمَ -، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، " أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَهْلَ مَاءٍ، فَاسْتَسْقَاهُمْ، فَلَمْ يَسْقُوهُ حَتَّى مَاتَ عَطَشًا، فَأَغْرَمَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِيَتَهُ "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی چشمہ والوں کے پاس آیا، اس نے ان سے پانی طلب کیا، لیکن انہوں نے اسے پانی نہ دیا بلکہ وہ پیاسا ہی مر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر چٹی کے طور پر دیت ڈال دی۔
حدیث نمبر: 19672
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، بِمَعْنَى هَذَا. قَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: إِنْ أَبَوْا أَنْ يُطْعِمُوهُ، وَخَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ، قَاتَلَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ کھانا دینے سے انکار کر دیں اور اس کو اپنی جان کا خطرہ ہو تو وہ ان سے لڑائی کرے۔