السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في معاقرة الأعراب وذبائح الجن باب: بدوؤں کی فخریہ قربانیوں اور جنوں کے لیے کیے گئے ذبیحوں کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَبَائِحِ الْجِنِّ، قَالَ: وَأَمَّا ذَبَائِحُ الْجِنِّ أَنْ تَشْتَرِيَ الدَّارَ وَتَسْتَخْرِجَ الْعَيْنَ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، فَتَذْبَحَ لَهَا ذَبِيحَةً لِلطِّيَرَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَهَذَا التَّفْسِيرُ فِي الْحَدِيثِ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ يَتَطَيَّرُونَ إِلَى هَذَا الْفِعْلِ مَخَافَةَ أَنَّهُمْ إِنْ لَمْ يَذْبَحُوا فَيُطْعِمُوا أَنْ يُصِيبَهُمْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْجِنِّ يُؤْذِيهِمْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا وَنَهَى عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
زہیر رحمہ اللہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ”جنوں کے نام پر جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا“؛ فرماتے ہیں کہ گھر خریدا جاتا یا نظر کو دور کرنے کے لیے یا اس کے مشابہ (کوئی کام ہوتا) تو یہ بدشگونی کے لیے ایسا کرتے تھے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ صرف اس لیے ذبح کرتے تھے کہ اگر انہوں نے ایسا کام نہ کیا تو جن انہیں نقصان پہنچائیں گے۔