کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا مکمل (بے عیب) جانور خریدے، پھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اور وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ حَذْفٍ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّحْبَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ يَسُوقُ بَقَرَةً مَعَهَا وَلَدُهَا، فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُهَا أُضَحِّي بِهَا وَإِنَّهَا وَلَدَتْ. قَالَ: فَلَا تَشْرَبْ مِنْ لَبَنِهَا إِلَّا فَضْلًا عَنْ وَلَدِهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَانْحَرْهَا هِيَ وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حذف عبسی فرماتے ہیں: ہم رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمدان کا ایک شخص آیا، وہ ایک گائے اور اس کے بچے کو ہانک رہا تھا، پھر کہنے لگا: میں نے اسے قربانی کے لیے خریدا تھا پھر اس نے بچہ جن دیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا دودھ صرف اتنا ہی پی سکتے ہو جو بچے سے زائد رہ جائے، جب قربانی کا دن آئے گا تو اسے اور اس کے بچے کو سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کر دینا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19192
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ قَرَظَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً لِأُضَحِّيَ بِهَا فَخَرَجْتُ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهَا، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا ". وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ: اشْتَرَيْنَا كَبْشًا لِنُضَحِّيَ بِهِ فَقَطَعَ الذِّئْبُ أَلْيَتَهُ أَوْ مِنْ أَلْيَتِهِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ بِهِ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، إِلَّا أَنَّ جَابِرًا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے لیے ایک بکری خریدی اور نکلا تو ایک بھیڑیے نے اس کی چکی (دم والا حصہ) پکڑ لی۔ میں نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“
(ب) سفیان کی روایت میں ہے کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا تو بھیڑیے نے اس کی چکی یا چکی کا کچھ حصہ کاٹ ڈالا، میں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قربانی کرنے کا حکم دیا۔
البتہ جابر (جعفی) قابلِ حجت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19193
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بَأْسَ بِالْأُضْحِيَّةِ الْمَقْطُوعَةِ الذَّنَبِ ". وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، فَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَاةٍ قَطَعَ الذِّئْبُ ذَنَبَهَا يُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: " ضَحِّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دم کٹے جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
(ب) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے ایسی بکری کے بارے میں پوچھا جس کی دم کو بھیڑیے نے کاٹ دیا تھا کہ کیا اس کی قربانی کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی قربانی کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19194
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»