کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: لوہے اور اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو ذبح ہونے والے جانور کے لیے زیادہ آسان ہو، نیز چھریوں کو تیز کرنے، اسے جانور سے چھپانے اور جانور کو آرام پہنچانے کے مستحب ہونے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِزْمَوَيْهِ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ النَّسَوِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي ⦗٤٧١⦘ قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَيْنِ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو خصلتیں نبی ﷺ سے یاد کیں کہ: ”اللہ رب العزت نے ہر چیز کے اوپر احسان کو لکھ دیا ہے۔ جب تم قتل کرو یا ذبح کرو تو احسن انداز سے اور اپنی چھری کو تیز کر لیا کرو، تاکہ ذبح ہونے والے جانور کو راحت دی جا سکے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19137
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٩٥٥»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ مِحْسَانٌ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُحْسِنْ ذِبْحَتَهُ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالْكَبْشِ لِيُضَحِّيَ بِهِ: " يَا عَائِشَةَ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ ". ثُمَّ قَالَ: " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اللہ رب العزت محسن ہے، اس نے ہر چیز پر احسان کو لکھ دیا ہے، جس وقت تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو چھری کو تیز کر لیا کرو تاکہ جانور کو راحت دی جا سکے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ جس وقت مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر پر تیز کر لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19138
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ ". كَذَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ مَوْصُولًا جَيِّدًا.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھری کی دھار کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا ہے، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو جلدی کرے۔“
ابن لہیعہ نے اسی طرح اسے عمدہ متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19139
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَقَالَ: " إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھری کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ ”جب تم ذبح کرو تو جلدی کرلیا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19140
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَةِ شَاةٍ وَهُوَ يُحِدُّ شَفْرَتَهُ وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَا، فَقَالَ: " أَفَلَا قَبْلَ هَذَا؟ أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتًا ". تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ: " أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتَاتٍ ". وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ فَأَرْسَلَهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو بکری کی گردن پر اپنا پاؤں رکھ کر اس کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پہلے یہ کام کیوں نہ کیا؟ کیا تم ذبح سے پہلے اس کو مارنا چاہتے ہو؟“
(ب) حماد بن زید، عاصم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مرتبہ اس کو مارے گا؟“
معمر نے اسے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19141
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّ شَفْرَةً وَأَخَذَ شَاةً لِيَذْبَحَهَا، فَضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: أَتُعَذِّبُ الرُّوحَ؟ أَلَا فَعَلْتَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْخُذَهَا.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن عبید اللہ بن عاصم بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بکری کو ذبح کرنے کے لیے پکڑا اور ساتھ ہی چھری تیز کرنے لگا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور فرمایا: کیا تو روح کو عذاب دیتا ہے؟ تو نے اس کو پکڑنے سے پہلے ہی یہ کام کیوں نہ کر لیا؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19142
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ شَاةً لِيَذْبَحَهَا، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، وَقَالَ: سُقْهَا لَا أُمَّ لَكَ إِلَى الْمَوْتِ سَوْقًا جَمِيلًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ بکری کو کھینچ کر ذبح کرنے کے لیے لا رہا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور فرمایا کہ اس کو موت کے گھاٹ احسن انداز سے اتارو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19143
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»