کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: نخع (حرام مغز تک چھری پہنچا دینے) اور فرس (گردن توڑ دینے) کی کراہت کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَنَهَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّخْعِ وَأَنْ تُعْجَلَ الْأَنْفُسُ أَنْ تَزْهَقَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالنَّخْعُ أَنْ تُذْبَحَ الشَّاةُ ثُمَّ يُكْسَرُ قَفَاهَا مِنْ مَوْضِعِ الذَّبْحِ لِنَخْعِهِ وَلِمَكَانِ الْكَسْرِ فِيهِ، أَوْ تُضْرَبَ لِيُعْجَلَ قَطْعُ حَرَكَتِهَا فَأَكْرَهُ هَذَا. وَقَالَ: وَلَمْ يُحَرِّمْهَا ذَلِكَ لِأَنَّهَا ذَكِيَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذبح کرتے وقت چھری کو حرام مغز تک لے جانے سے منع فرمایا کہ اس طرح جان بغیر دشواری کے نکل جاتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نَخْعٌ» یہ ہوتا ہے کہ بکری کو ذبح کرنے کے بعد ذبح شدہ جگہ سے گردن کو موڑ دیا جائے، تاکہ اس کی حرکت جلد ختم ہو جائے، میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: اس طرح کرنے سے حرام نہیں ہو جاتا بلکہ اس کو ذبح کے اندر شمار کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19134
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَحَجَّاجِ بْنِ أَبِي ⦗٤٧٠⦘ عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْمَعْرُورِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْفَرْسِ فِي الذَّبِيحَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: الْفَرْسُ هُوَ النَّخْعُ، يُقَالُ مِنْهُ: فَرَسْتُ الشَّاةَ وَنَخَعْتُهَا، وَذَلِكَ أَنْ يَنْتَهِيَ بِالذَّبْحِ إِلَى النُّخَاعِ وَهُوَ عَظْمٌ فِي الرَّقَبَةِ، وَيُقَالُ أَيْضًا: بَلْ هُوَ الَّذِي يَكُونُ فِي فَقَارِ الصُّلْبِ شَبِيهٌ بِالْمُخِّ وَهُوَ مُتَّصِلٌ بِالْقَفَا، يَقُولُ: فَنَهَى أَنْ يَنْتَهِيَ بِالذَّبْحِ إِلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَمَّا النَّخْعُ فَهُوَ عَلَى مَا قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ، وَأَمَّا الْفَرْسُ فَقَدْ خُولِفَ فِيهِ، يُقَالُ هُوَ الْكَسْرُ، وَإِنَّمَا نَهَى أَنْ يَكْسِرَ رَقَبَةَ الذَّبِيحَةِ قَبْلَ أَنْ تَبْرُدَ، وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ: " وَلَا تَعْجَلُوا الْأَنْفُسَ حَتَّى تَزْهَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
معرور کلبی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذبیحہ میں «فَرْس» سے منع فرمایا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے کہا: فرس سے مراد نخع ہے، کہا جاتا ہے: میں نے بکری کا فرس کیا اور اس کا نخع کیا، یعنی ذبح کرتے ہوئے چھری کو «نُخاع» تک پہنچا دیا جائے، اور یہ گردن کی ایک ہڈی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں مغز کی طرح ہوتی ہے اور گدی کے ساتھ ملی ہوئی ہے، یعنی انہوں نے ذبح کو وہاں تک پہنچانے سے منع فرمایا۔ ابو عبید کہتے ہیں: نخع کا معنیٰ تو وہی ہے جو ابو عبیدہ نے کہا، لیکن فرس کے بارے میں اختلاف ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد توڑنا ہے، اور انہوں نے صرف اس سے منع فرمایا کہ ذبح شدہ جانور کی گردن ٹھنڈا ہونے سے پہلے توڑ دی جائے، اور اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ حدیث میں ہے: ”اور جانوں کے نکلنے سے پہلے جلدی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19135
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْحَاسِبُ، ثنا جُبَارَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ، هُوَ ابْنُ حَوْشَبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّبِيحَةِ أَنْ تُفْرَسَ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”ذبح شدہ جانور کی موت سے پہلے گردن توڑنے سے منع کیا ہے“۔
یہ سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19136
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»