کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو خون بہا دے، رگیں اور گلا کاٹ دے اور کچلے نہیں، سوائے ناخن اور دانت کے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا لَنَرْجُو أوْ نَخْشَى أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہمیں امید ہے یا ہمیں دشمن سے لڑنے کا خوف ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں، کیا ہم سرکنڈے سے ذبح کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو کھالو لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہیں کرنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أَذْبَحُهُ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا. قَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں شکار کرتا ہوں لیکن ذبح کے لیے پتھر یا لاٹھی موجود ہوتی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون بہا دے جس چیز سے بھی تو چاہے اور اللہ کا نام لے۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا إِذَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ شَفْرَةٌ أَيُذَكِّي بِمَرْوَةٍ أَوْ شُقَّةِ الْعَصَا؟ قَالَ: " أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جب ہم شکار کریں اور ہمارے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری موجود نہ ہو تو کیا پتھر یا لاٹھی کی ایک پھاڑ سے ذبح کیا جا سکتا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو، یعنی تکبیر پڑھو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ»۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ ⦗٤٧٣⦘ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا يَصِيدُ الصَّيْدَ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ يُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا مَرْوَةٌ أَوْ شُقَّةُ عَصًا. فَقَالَ: " أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی شکار کرتا ہے، لیکن ذبح کرنے کے لیے پتھر یا لاٹھی کی ایک پھاڑ موجود ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو یعنی تکبیر پڑھو «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ»“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَرَأَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا مِنْهَا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ أَوْ قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ أَوْ رَسُولُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن کعب بن مالک نے اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ ان کی ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چراتی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر دیا، تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: اتنی دیر نہ کھانا جتنی دیر میں نبی ﷺ سے نہ پوچھ لوں، تو انہوں نے نبی ﷺ کی جانب کسی کو پوچھنے کے لیے بھیجا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہماری ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چرا رہی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر ڈالا، تو نبی ﷺ نے اس بکری کو کھانے کا حکم دے دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ، فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بنو حارثہ کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ احد کی پہاڑیوں میں سے کسی ایک پہاڑی پر اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ اس نے ایک اونٹنی کو مرتے دیکھا تو نحر کے لیے کوئی چیز نہ پائی تو ایک کھونٹا پکڑ کر اونٹنی کے لبہ پر دے مارا، جس سے خون بہہ گیا۔ پھر نبی ﷺ کو آ کر بتایا تو آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم دے دیا۔
وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ نَاقَةً كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قِبَلِ أُحُدٍ فَعَرَضَ لَهَا، فَنَحَرَهَا بِوَتِدٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهَا، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، زَادَ: فَقُلْتُ لَهُ: حَدِيدٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ. يَعْنِي الْوَتِدَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ احد پہاڑ کی جانب ایک انصاری شخص کی اونٹنی تھی، وہ مرنے لگی تو اس نے کھونٹے سے نحر کر دیا۔ نبی ﷺ سے اس کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ”کھانے کی اجازت دے دی“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الذَّبِيحَةِ بِالْعُودِ، فَقَالَ: كُلُّ مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ غَيْرَ مُثَرِّدٍ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ: التَّثْرِيدُ: أَنْ تُذْبَحَ الذَّبِيحَةُ بِشَيْءٍ لَا حَدَّ لَهُ فَلَا يُنْهِرَ الدَّمَ وَلَا يُسِيلُهُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَوْلُهُ: مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ يَعْنِي: مَا شَقَّقَهَا وَأَسَالَ مِنْهَا الدَّمَ. ⦗٤٧٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ تَأَوَّلَ بَعْضُ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ قَوْلَهُ: كُلْ مِنَ الْأَكْلِ، وَهَذَا خَطَأٌ وَلَوْ أَرَادَ مِنَ الْأَكْلِ لَوَقَعَ الْمَعْنَى عَلَى الشَّفْرَةِ؛ لِأَنَّ الشَّفْرَةَ هِيَ الَّتِي تُفْرِي، وَإِنَّمَا مَعْنَى الْحَدِيثِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَفْرَى الْأَوْدَاجَ مِنْ عُودٍ أَوْ حَجَرٍ بَعْدَ أَنْ يُفْرِيَهَا فَهُوَ ذَكِيٌّ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ لکڑی سے ذبح کرنے کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے لیکن ایسی چیز نہ ہو جو خون نہ بہائے۔
اور عبید کہتے ہیں: تثرید یعنی ایسا جانور جس کو ایسی چیز سے ذبح کیا جائے جو خون نہ بہائے، «مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ» ”ایسی چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے۔“ ابو عبید کہتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کھا لیں لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو چیز لکڑی یا پتھر رگوں کو کاٹ دے تو اس کو ذبح کے حکم میں مانا جائے گا۔
اور عبید کہتے ہیں: تثرید یعنی ایسا جانور جس کو ایسی چیز سے ذبح کیا جائے جو خون نہ بہائے، «مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ» ”ایسی چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے۔“ ابو عبید کہتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کھا لیں لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو چیز لکڑی یا پتھر رگوں کو کاٹ دے تو اس کو ذبح کے حکم میں مانا جائے گا۔