أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَالْحَوْضِيُّ، قَالُوا: ثنا ⦗٤٣١⦘ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْبِسْطَامِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ كُنَّا نَأْكُلُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَقَالَ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سات غزوے کیے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ب) ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوے کیے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ج) ابو ولید سے منقول ہے: سات غزوے یا چھ۔
(ب) ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوے کیے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔
(ج) ابو ولید سے منقول ہے: سات غزوے یا چھ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَارُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَأَلْتُ شَرِيكِي عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا مَعَهُ عَنِ الْجَرَادِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ وَقَدْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ فَكُنَّا نَأْكُلُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو یعفور کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، ہم سات غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ٹڈی کھاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوات لڑے اور ہم ٹڈی کھا لیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ إِمْلَاءً، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: " أَكْثَرُ جُنُودِ اللهِ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سلمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثَرُ جُنُودِ اللهِ فِي الْأَرْضِ الْجَرَادُ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمین پر اللہ کا سب سے بڑا لشکر ٹڈی ہے، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فَقَالَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: " أَكْثَرُ جُنْدِ اللهِ ". قَالَ عَلِيٌّ: اسْمُهُ فَائِدٌ يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: إِنْ صَحَّ هَذَا فَفِيهِ أَيْضًا دَلَالَةٌ عَلَى الْإِبَاحَةِ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحَرِّمْهُ فَقَدْ أَحَلَّهُ، وَإِنَّمَا لَمْ يَأْكُلْهُ تَقَذُّرًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے بھی اسی کے مثل فرمایا اور فرمایا: ”اللہ کا بڑا لشکر ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح ہو تو اس میں بھی اباحت کی دلیل ہے، کیونکہ جب حرام قرار نہیں دیا تو حلال ہے۔ آپ ﷺ نے صرف طبعی کراہت کی وجہ سے خود نہیں کھائی۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح ہو تو اس میں بھی اباحت کی دلیل ہے، کیونکہ جب حرام قرار نہیں دیا تو حلال ہے۔ آپ ﷺ نے صرف طبعی کراہت کی وجہ سے خود نہیں کھائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، الْمَيْتَتَانِ الْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَالدَّمَانِ، أَحْسِبُهُ قَالَ: الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ ". وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ اللهِ وَأُسَامَةَ بَنِي زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِمْ هَكَذَا مَرْفُوعًا، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ دو مردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہے اور دو خون سے مراد جگر و تلی ہے۔“
(ب) زید بن اسلم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔“
اور یہی (موقوف روایت) صحیح ہے۔
(ب) زید بن اسلم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔“
اور یہی (موقوف روایت) صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَيْوَةَ بْنَ شُرَيْحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: ⦗٤٣٣⦘ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ وَمَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَفْعَةٌ فِيهَا جَرَادٌ قَدِ احْتَقَبَهَا وَرَاءَهُ فَيَرُدُّ يَدَهُ وَرَاءَهُ فَيَأْخُذُ مِنْهَا فَيُنَاوِلُنَا وَيَأْكُلُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ. قَالَ أَنَسٌ: ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكُنَّا نُؤْتَى بِهِ فَنَشْتَرِيهِ وَنُكْثِرُ وَنُجَفِّفُهُ فَوْقَ الْأَجَاجِيرِ فَنَأْكُلُ مِنْهُ زَمَانًا.
حافظ ثناء اللہ
سنان بن عبداللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر گئے اور ہمارے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جن کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں ٹڈیاں تھیں جو انہوں نے اپنی پچھلی جانب رکھی تھیں، تو وہ وہاں سے ٹڈیاں نکال کر ہمیں دیتے اور ہمیں کھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ دیکھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ واپس آئے تو ہم نے ان سے خرید لیں، پھر ہم لمبا زمانہ اس سے کھاتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا قَفْعَةً نَأْكُلُ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس ٹڈی کی بھری ہوئی ایک ٹوکری ہو جسے ہم کھاتے رہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ اللَّجْلَاجَ حَدَّثَهُ، أَنَّ وَهْبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى زَيْنَبَ زَوْجِِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ جَرَادًا مَقْلُوًّا بِسَمْنٍ فَقَالَتْ: كُلْ يَا مِصْرِيُّ مِنْ هَذَا لَعَلَّ الصَّيْرَ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ هَذَا. قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا لَنُحِبُّ الصَّيْرَ. فَقَالَتْ: كُلْ يَا مِصْرِيُّ، إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ سَأَلَ اللهَ لَحْمَ طَيْرٍ لَا ذَكَاةَ لَهُ فَرَزَقَهُ اللهُ الْحِيتَانَ وَالْجَرَادَ.
حافظ ثناء اللہ
وہب بن عبداللہ معافری اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہوں نے ان کے سامنے گھی میں بھنی ہوئی ٹڈی پیش کی اور کہا: اے مصری! یہ کھاؤ، شاید تمہیں صِیر (نمکین چھوٹی مچھلی) اس سے زیادہ پسند ہو۔ میں نے کہا: ہمیں صِیر پسند ہے۔ تو انہوں نے کہا: اے مصری! کھاؤ، انبیاء میں سے ایک نبی نے اللہ سے ایسے پرندے کے گوشت کا سوال کیا جسے ذبح کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اللہ نے انہیں مچھلیاں اور ٹڈی عطا کیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، وَأَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَمِيرُكَ النَّيْسَابُورِيُّ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلْنَ الْجَرَادَ وَيَتَهَادَيْنَهُ بَيْنَهُنَّ. قَالَ يَزِيدُ: فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن ٹڈی کھاتی تھیں اور ایک دوسری کو تحفہ دیا کرتی تھیں۔ یزید کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا: کیا آپ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں نے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ وَالْمِقْدَادَ بْنَ سُوَيْدٍ وَصُهَيْبًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَكَلُوا جَرَادًا، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهُ قَفْعَةً أَوْ قَفْعَتَيْنِ. ⦗٤٣٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: الْقَفْعَةُ شَيْءٌ شَبِيهٌ بِالزَّنْبِيلِ لَيْسَ بِالْكَبِيرِ، يُعْمَلُ مِنْ خُوصٍ، وَلَيْسَتْ لَهُ عُرًى. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْحِيتَانُ وَالْجَرَادُ ذَكِيٌّ كُلُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، مقداد بن سوید اور صہیب رضی اللہ عنہم ٹڈی کھاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کاش ہمارے پاس اس کی ایک یا دو ٹوکریاں ہوتیں۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی ذبح کی ہوئی ہے۔
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی ذبح کی ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَرَاهُمْ يَأْكُلُونَ الْجَرَادَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ فَلَا يَنْهَاهُمْ وَلَا يَأْكُلُ هُوَ. قَالَتْ زَيْنَبُ: أَرَاهُ كَانَ يَقْذَرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ دیکھتے کہ ان کے بیٹے اور گھر والے ٹڈی کھاتے ہیں تو ان کو منع نہ کرتے اور خود نہ کھاتے۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ اس کو اچھا نہ سمجھتے۔