السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في أكل الجراد باب: ٹڈی کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18999
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا قَفْعَةً نَأْكُلُ مِنْهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس ٹڈی کی بھری ہوئی ایک ٹوکری ہو جسے ہم کھاتے رہیں۔“