حدیث نمبر: 19000
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ اللَّجْلَاجَ حَدَّثَهُ، أَنَّ وَهْبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى زَيْنَبَ زَوْجِِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ جَرَادًا مَقْلُوًّا بِسَمْنٍ فَقَالَتْ: كُلْ يَا مِصْرِيُّ مِنْ هَذَا لَعَلَّ الصَّيْرَ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ هَذَا. قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا لَنُحِبُّ الصَّيْرَ. فَقَالَتْ: كُلْ يَا مِصْرِيُّ، إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ سَأَلَ اللهَ لَحْمَ طَيْرٍ لَا ذَكَاةَ لَهُ فَرَزَقَهُ اللهُ الْحِيتَانَ وَالْجَرَادَ.
حافظ ثناء اللہ

واہب بن عبداللہ مفاخری اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی پرورش میں موجود عورت کے پاس آئے۔ اس نے ان کے سامنے گھی میں بھنی ہوئی ٹڈی پیش کی اور کہا: اے مصری! یہ کھاؤ شاید آپ کو چوپائے اس سے زیادہ محبوب ہوں۔ میں نے کہا: ہمیں چوپائے زیادہ محبوب ہیں تو اس نے کہا: اے مصری! کسی نبی ﷺ نے اللہ سے ایسے پرندے کے گوشت کا سوال کیا جس کو ذبح نہ کیا جائے تو اللہ نے مچھلیاں اور ٹڈی عطا کیں۔
(ب) صدی بن عجلان ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عمران کی بیٹی مریم نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اسے ایسا گوشت کھلائے جس میں خون نہ ہو تو اللہ نے اس کو ٹڈی کھلائی۔ اس نے کہا: اے اللہ! اس کو بغیر دودھ کے زندہ رکھ اور تو اس کو بغیر آواز کے ران کے پیچھے لگا دے۔“ میں نے پوچھا: اے ابو الفضل! «شِيَاع» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آواز۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 19000
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»