کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
حدیث نمبر: 18869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا ". قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَرَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اپنے شکاری سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتے ہیں، وہ شکار کو ہمارے لیے محفوظ کر لیتا ہے، کیا میں اس پر اللہ کا نام ذکر کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور تو نے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہو تو کھاؤ۔“ میں نے پوچھا: اگر کتا شکار کو قتل کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شامل نہ ہو تب وہ قتل بھی کر دے تو کھا لو۔“ پھر میں نے عرض کیا کہ میں پھالا مار کر شکار کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ پھالا مار کر شکار کریں اور وہ شکار کو سوراخ کر دے تو کھا لو، اگر اس کو چوڑائی کے بل لگے تو پھر نہ کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 18870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيِّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ أَصَبْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلَابِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى كِلَابِ غَيْرِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہارے لیے روک لے کھا لو کیونکہ اس کا پکڑ لینا ہی ذبح کرنا ہے۔ اگر آپ اپنے شکاری کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا یا کتے پائیں تب نہ کھائیں، آپ نے اپنے شکاری کتے کو چھوڑتے ہوئے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہے جب کہ دوسرے کتوں کے چھوڑتے ہوئے نہیں پڑھا گیا۔“
حدیث نمبر: 18871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَارِمٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ إِذَا أَرْسَلْتُ كَلْبِي فَسَمَّيْتُ فَقَتَلَتِ الصَّيْدَ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ نَافِعٌ: يَقُولُ اللهُ: {إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: ٣] تَقُولُ أَنْتَ: وَإِنْ قَتَلَ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَمْسَكَ عَلَى سِنَّورٍ فَأَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ كَانَ يَكُونُ ⦗٣٩٥⦘ عَلَيَّ بَأْسٌ؟ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ فِي أِيِّ كِلَابٍ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ فِي كِلَابِ بَنِي نَبْهَانَ مِنْ طَيِّئٍ، وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ وَلَيَكُونَنَّ لَكَ نَبَأٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے جب میں اپنے سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں پھر وہ شکار کو قتل کر دیتا ہے، کیا میں اس شکار کو کھا لوں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کھا لو۔ نافع کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] یعنی اس وقت کھاؤ جب تم ذبح کرو، آپ کہتے ہیں کہ اگر شکار قتل بھی کر دیا جائے تو بھی کھا لو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابن ازرق! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو پکڑ کر ذبح کروں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کن کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ بنو نبھان جو قبیلہ طئی سے ہیں، ان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اے ابن ازرق! تجھ پر افسوس، ضرور تیرے لیے کوئی خبر ہوگی۔