کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ ". قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يَحْبِسْ عَلَيْكَ ". قَالَ: قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ؟ قَالَ: " لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چوڑائی کے بل شکار کو لگنے والے تیر کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تیر دھار کی جانب سے شکار کو لگے تو کھا لیں اور جب تیر چوڑائی کی جانب سے لگ کر شکار کو قتل کر دے تو یہ لکڑی کی چوٹ کھا کر مرا تصور ہوگا، اس شکار کو نہ کھائیں“، راوی کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے کتے کو چھوڑوں؟ فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ، پھر کھا لو“، راوی کہتے ہیں: اگر کتے نے اس سے کھا لیا؟ فرمایا: ”پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے، تیرے لیے نہیں“، راوی کہتے ہیں: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ اور کتے پاؤں؟ فرمایا: ”تب نہ کھاؤ کیونکہ آپ نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18872
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ وَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے تیر کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تیر کی دھار لگے اسے کھاؤ اور جو چوڑائی کی جانب سے تیر لگ کر مرے تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہو گا“ اور میں نے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لے، اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا ہو تو پھر شکار کو نہ کھاؤ۔ اگر آپ اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پائیں اور آپ کو ڈر ہو کہ کہیں شکار اس کتے نے پکڑا یا قتل کیا ہو، پھر بھی نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے پر نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18873
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ ⦗٣٩٦⦘ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کتا شکار آپ کے لیے روکے، کھائے نہیں، اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے اسے کھا لو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہو گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18874
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَلَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا وَعَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اَللّٰهُ اَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ، اگر شکار مرنے سے پہلے آپ پالیں تو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لو اور اگر قتل شدہ شکار پالیں اور کتے نے کھایا بھی نہیں تو آپ کھا لیں، کیونکہ آپ کے لیے اس نے شکار کیا ہے؛ اگر شکار میں سے اس نے کچھ کھایا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ کتے نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18875
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم کتوں سے شکار کرنے والے لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے، اگر کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لو، اگر کتا شکار کو قتل کر کے شکار سے کچھ کھا لے تو پھر آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ ممکن ہے اس نے اپنے لیے شکار کیا ہو، اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں تب بھی نہ کھائیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18876
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَبَّانَ، ثنا ابْنُ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: " إِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اگر کتا شکار سے کھا لے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کتا شکار سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ یہ سکھایا ہوا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18877
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَحْتَمِلُ الْقِيَاسُ أَنْ يَأْكُلَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ الْكَلْبُ، وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا هَذَا لِلْأَثَرِ الَّذِي ذَكَرَ الشَّعْبِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ ". وَإِذَا ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجُزْ تَرْكُهُ لِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیاس کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ شکار کھا لیا جائے اگرچہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اور ہمارے بعض اصحاب کا قول ہے، ہم نے اسے صرف اس اثر کی وجہ سے چھوڑا ہے جو شعبی نے ذکر کیا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر کتا شکار سے کھالے تو شکار مت کھاؤ۔“ جب یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہے تو اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18878
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ الشَيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِذَا أَرْسَلَ أَحَدُكُمْ كَلْبَهُ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ أَكَلَ مِنْهُ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ ذَكَرَهَا عَنْهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّإِ مُنْقَطِعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑو، تو کتے نے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو، آپ شکار کو کھا سکتے ہیں۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں جو روایت ہے، اسے امام مالک نے موطا میں منقطع سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18879
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: كُلْ وَإِنْ أَكَلَ نِصْفَهُ، يَعْنِي الْكَلْبَ. وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کتا نصف شکار بھی کھا لے تو آپ کھا سکتے ہیں۔
یہ روایت بھی مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18880
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا قُلْتُ: إِنَّ لَنَا كِلَابًا ضَوَارِيَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيْنَا وَيَأْكُلْنَ وَيُبْقِينَ، قَالَ: " كُلْ وَإِنْ لَمْ يُبْقِينَ إِلَّا نِصْفَهُ " وَهَذَا مَوْصُولٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ أَقَاوِيلِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن مالک نے سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمارے شکاری کتے شکار کرتے وقت کچھ کھا لیتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں، فرماتے ہیں: اگر آدھا بھی چھوڑ دیں تو کھا لیا کرو۔
یہ روایت موصول (متصل سند والی) ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18881
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَأَكَلَ ثُلُثَيْهِ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ فَكُلْ مَا بَقِيَ " وَعَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَقُولُ: " لَوْ كَانَ مُعَلَّمًا مَا أَكَلَ ". ⦗٣٩٨⦘ وَرُوِيَ فِي إِبَاحَةِ أَكْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ صَحَّ الْحَدِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، اس نے دو تہائی شکار کھا لیا اور صرف ایک تہائی شکار باقی ہے تو باقی ماندہ آپ کھا سکتے ہیں۔ (ب) قتادہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے: اگر کتا سکھایا ہوا ہوتا تو نہ کھاتا۔ اور نبی کریم ﷺ سے اس کے کھانے کی اباحت منقول ہے، اگر یہ حدیث صحیح ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18882
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، وَكُلْ مَا رَدَّتْ يَدُكَ " أَوْ قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کے شکار کے بارے میں فرمایا: ”جب تو شکاری کتا اللہ کا نام لے کر چھوڑے تو شکار کھالے، اگرچہ کتے نے اس سے کھا لیا ہو اور جو تیرا ہاتھ تجھے واپس کر دے اسے کھالے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18883
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ". قَالَ: " ذَكِيٌّ أَوْ غَيْرُ ذَكِيٍّ ". قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: " وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ". هَذَا مُوَافِقٌ لِحَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْأَكْلِ، وَحَدِيثُ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيٍّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيِّ وَمِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ يَصْطَادُ قَالَ: " كُلْ، أَكَلَ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ " فَصَارَ حَدِيثُ عَمْرٍو بِهَذَا مَعْلُولًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ثعلبہ دیہاتی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس سکھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے بارے میں مجھے فتویٰ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تیرا کتا سکھایا ہوا ہو اور شکار کو روک لے تو کھا لو، ذبح کرو یا نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر کتا اس سے کھا لے؟ فرمایا: ”اگرچہ کتا شکار سے کھا بھی لے۔“
(ب) عمرو بن شعیب ہذیل کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، چاہے کتے نے شکار سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو۔“
شعبی کی سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے روایت داؤد بن عمرو دمشقی اور عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ اور اس (شعبہ کی روایت) کی وجہ سے عمرو کی حدیث معلول ہو گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18884
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»