کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 18872
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ ". قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يَحْبِسْ عَلَيْكَ ". قَالَ: قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ؟ قَالَ: " لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چوڑائی کے بل شکار کو لگنے والے تیر کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تیر دھار کی جانب سے شکار کو لگے تو کھا لیں اور جب تیر چوڑائی کی جانب سے لگ کر شکار کو قتل کر دے تو یہ لکڑی کی چوٹ کھا کر مرا تصور ہوگا، اس شکار کو نہ کھائیں“، راوی کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے کتے کو چھوڑوں؟ فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ، پھر کھا لو“، راوی کہتے ہیں: اگر کتے نے اس سے کھا لیا؟ فرمایا: ”پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے، تیرے لیے نہیں“، راوی کہتے ہیں: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ اور کتے پاؤں؟ فرمایا: ”تب نہ کھاؤ کیونکہ آپ نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں“۔
حدیث نمبر: 18873
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ وَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے تیر کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تیر کی دھار لگے اسے کھاؤ اور جو چوڑائی کی جانب سے تیر لگ کر مرے تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہو گا“ اور میں نے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لے، اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا ہو تو پھر شکار کو نہ کھاؤ۔ اگر آپ اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پائیں اور آپ کو ڈر ہو کہ کہیں شکار اس کتے نے پکڑا یا قتل کیا ہو، پھر بھی نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے پر نہیں۔“
حدیث نمبر: 18874
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ ⦗٣٩٦⦘ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: " مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کتا شکار آپ کے لیے روکے، کھائے نہیں، اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے اسے کھا لو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہو گا۔“
حدیث نمبر: 18875
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَلَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا وَعَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اَللّٰهُ اَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ، اگر شکار مرنے سے پہلے آپ پالیں تو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لو اور اگر قتل شدہ شکار پالیں اور کتے نے کھایا بھی نہیں تو آپ کھا لیں، کیونکہ آپ کے لیے اس نے شکار کیا ہے؛ اگر شکار میں سے اس نے کچھ کھایا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ کتے نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 18876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم کتوں سے شکار کرنے والے لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے، اگر کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لو، اگر کتا شکار کو قتل کر کے شکار سے کچھ کھا لے تو پھر آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ ممکن ہے اس نے اپنے لیے شکار کیا ہو، اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں تب بھی نہ کھائیں۔“
حدیث نمبر: 18877
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَبَّانَ، ثنا ابْنُ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: " إِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اگر کتا شکار سے کھا لے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کتا شکار سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ یہ سکھایا ہوا نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 18878
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَحْتَمِلُ الْقِيَاسُ أَنْ يَأْكُلَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ الْكَلْبُ، وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا هَذَا لِلْأَثَرِ الَّذِي ذَكَرَ الشَّعْبِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ ". وَإِذَا ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجُزْ تَرْكُهُ لِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر کتا شکار سے کھالے تو شکار مت کھاؤ۔“ جب یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہے تو اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18879
قَالَ الشَيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِذَا أَرْسَلَ أَحَدُكُمْ كَلْبَهُ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ أَكَلَ مِنْهُ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ ذَكَرَهَا عَنْهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّإِ مُنْقَطِعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑو، تو کتے نے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو، آپ شکار کو کھا سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18880
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: كُلْ وَإِنْ أَكَلَ نِصْفَهُ، يَعْنِي الْكَلْبَ. وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کتا نصف شکار بھی کھا لے تو آپ کھا سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18881
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا قُلْتُ: إِنَّ لَنَا كِلَابًا ضَوَارِيَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيْنَا وَيَأْكُلْنَ وَيُبْقِينَ، قَالَ: " كُلْ وَإِنْ لَمْ يُبْقِينَ إِلَّا نِصْفَهُ " وَهَذَا مَوْصُولٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ أَقَاوِيلِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن مالک نے سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمارے شکاری کتے شکار کرتے وقت کچھ کھا لیتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں، فرماتے ہیں: اگر آدھا بھی چھوڑ دیں تو کھا لیا کرو۔
حدیث نمبر: 18882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَأَكَلَ ثُلُثَيْهِ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ فَكُلْ مَا بَقِيَ " وَعَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَقُولُ: " لَوْ كَانَ مُعَلَّمًا مَا أَكَلَ ". ⦗٣٩٨⦘ وَرُوِيَ فِي إِبَاحَةِ أَكْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ صَحَّ الْحَدِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑے، اس نے دو تہائی شکار کھا لیا اور صرف ایک تہائی شکار باقی ہے تو باقی ماندہ آپ کھا سکتے ہیں۔ (ب) قتادہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اگر کتا سکھایا ہوا بھی ہو تب بھی کھائے اور نبی کریم ﷺ سے اس کے کھانے کے متعلق صحیح احادیث منقول ہیں۔
حدیث نمبر: 18883
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، وَكُلْ مَا رَدَّتْ يَدُكَ " أَوْ قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کے شکار کے بارے میں فرمایا: ”جب تو شکاری کتا اللہ کا نام لے کر چھوڑے تو شکار کھالے، اگرچہ کتے نے اس سے کھا لیا ہو اور جو تیرا ہاتھ تجھے واپس کر دے اسے کھالے۔“
حدیث نمبر: 18884
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ". قَالَ: " ذَكِيٌّ أَوْ غَيْرُ ذَكِيٍّ ". قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ: " وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ". هَذَا مُوَافِقٌ لِحَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْأَكْلِ، وَحَدِيثُ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيٍّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيِّ وَمِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ يَصْطَادُ قَالَ: " كُلْ، أَكَلَ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ " فَصَارَ حَدِيثُ عَمْرٍو بِهَذَا مَعْلُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو ثعلبہ دیہاتی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس سکھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے بارے میں مجھے فتویٰ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تیرا کتا سکھایا ہوا ہو اور شکار کو روک لے، ذبح کرو یا نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اگر کتا اس سے کھا لے؟ فرمایا: ”اگرچہ کتا شکار سے کھا بھی لے۔“
(ب) سیدنا عمرو بن شعیب ہذیل کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، چاہے کتے نے شکار سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو۔“
(ب) سیدنا عمرو بن شعیب ہذیل کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، چاہے کتے نے شکار سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو۔“