کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سدھائے ہوئے جانور کے تمہارے لیے پکڑے ہوئے شکار کو کھانے کا بیان، اگرچہ وہ اسے مار ڈالے۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتِ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ} [المائدة: 4]..
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتِ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ﴾ ”وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کچھ حلال کیا گیا ہے؟ آپ کہہ دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں، اور وہ شکاری جانور بھی جنہیں تم نے شکار پر دوڑانے کے لیے سدھایا ہو، تم انہیں اس (علم) میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو جو (شکار) وہ تمہارے لیے روک رکھیں اس میں سے کھاؤ۔“ [سورة المائدة: 4]...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أُحِلَّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے اس سے کیا حلال ہے جن کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہے، کہہ دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری کتے سدھائے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي كِلَابًا أَصْطَادُ بِهَا، فَقَالَ: انْظُرُوا هَذِهِ الْجَوَارِحَ عَلِّمُوهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ وَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میرا کتا ہے جس سے میں شکار کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان شکار کرنے والوں کی جانب دیکھو، انھیں سکھاؤ جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اور اس شکار کو کھا لو جو تمہارے لیے روکے رکھیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَمَا ⦗٣٩٤⦘ عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ} [المائدة: ٤]، قَالَ: مِنَ الْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ وَالْبَازِي وَكُلِّ طَيْرٍ يُعَلَّمُ لِلصَّيْدِ، وَفِي قَوْلِهِ: {مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤]، قَالَ: يَقُولُ ضَوَارِيَ. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: الْجَوَارِحُ: الطَّيْرُ وَالْكِلَابُ، وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: {مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] قَالَ: يُكَالِبُونَ الصَّيْدَ. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ} [المائدة: ٩٤]، قَالَ: يَعْنِي النَّبْلَ، وَيُقَالُ أَيْدِيكُمْ أَيْضًا صِغَارُ الصَّيْدِ الْفِرَاخُ وَالْبَيْضُ، {وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: ٩٤] يُقَالُ: كِبَارُ الصَّيْدِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم شکار کرنے والوں کو سکھاتے ہو۔“ 1 شکاری کتے سدھائے ہوئے، 2 باز، 3 ہر وہ پرندہ جس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو، «مُكَلِّبِينَ» ”شکاری جانور۔“ مجاہد کہتے ہیں کہ پرندے اور کتے جو شکار کرتے ہو اور قتادہ فرماتے ہیں کہ جن کتوں سے تم شکار کرتے ہو ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] یعنی تیر، «أَيْدِيكُمْ» سے مراد چڑیا وغیرہ، ﴿وَرِمَاحُكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] سے مراد بڑا شکار۔