حدیث نمبر: 18866
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتِ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ} [المائدة: 4]..
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتِ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ﴾ ”وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کچھ حلال کیا گیا ہے؟ آپ کہہ دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں، اور وہ شکاری جانور بھی جنہیں تم نے شکار پر دوڑانے کے لیے سدھایا ہو، تم انہیں اس (علم) میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، تو جو (شکار) وہ تمہارے لیے روک رکھیں اس میں سے کھاؤ۔“ [سورة المائدة: 4]...

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أُحِلَّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤].
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے اس سے کیا حلال ہے جن کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہے، کہہ دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری کتے سدھائے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18866
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»