کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذمیوں کے گرجا گھروں میں ان کے پاس جانے اور ان کے نیروز اور مہرجان (تہواروں) کے دن ان کی مشابہت اختیار کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18861
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تَعَلَّمُوا رَطَانَةَ الْأَعَاجِمِ وَلَا تَدْخُلُوا عَلَى الْمُشْرِكِينَ فِي كَنَائِسِهِمْ يَوْمَ عِيدِهِمْ، فَإِنَّ السَّخْطَةَ تَنْزِلُ عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم عجمیوں کی زبان نہ سیکھو اور مشرکین کے معبد خانوں میں ان کی عید کے دن داخل نہ ہو، کیونکہ اللہ کی ناراضی ان پر اترتی ہے۔
حدیث نمبر: 18862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي زَيْنَبَ، وَعَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ سَلَمَةَ، سَمِعَ أَبَاهُ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " اجْتَنِبُوا أَعْدَاءَ اللهِ فِي عِيدِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن سلمہ کے والد نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ تم اللہ کے دشمنوں کی عید سے اجتناب کرو۔
حدیث نمبر: 18863
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَوْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو، قَالَ: " مَنْ بَنَى بِبِلَادِ الْأَعَاجِمِ وَصَنَعَ نَيْرُوزَهُمْ وَمِهْرَجَانَهُمْ وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ الشَّيْخُ أَبُو سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ: بَنَى هُوَ الصَّوَابُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جس نے عجمیوں کے شہر تعمیر کیے اور ان کے تہواروں کی جگہ تعمیر کی اور ان سے مشابہت اختیار کی، تو کل قیامت کے دن اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا۔“
حدیث نمبر: 18864
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو، قَالَ: " مَنْ بَنَى فِي بِلَادِ الْأَعَاجِمِ فَصَنَعَ نَوْرُوزَهُمْ وَمِهْرَجَانَهُمْ وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أبي عَدِيٍّ، وَغُنْدَرٌ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مغیرہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے عجمیوں کے شہر تعمیر کیے اور ان کے تہواروں کی جگہ تعمیر کی اور ان سے موت تک مشابہت اختیار کی، تو کل قیامت کے دن اس کا حشر انہی کے ساتھ ہو گا۔
حدیث نمبر: 18865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهَدِيَّةِ النَّيْرُوزِ فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا يَوْمُ النَّيْرُوزِ، قَالَ: فَاصْنَعُوا كُلَّ يَوْمٍ فَيْرُوزَ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: كَرِهَ أَنْ يَقُولَ نَيْرُوزَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذَا كَالْكَرَاهَةِ لِتَخْصِيصِ يَوْمٍ بِذَلِكَ لَمْ يَجْعَلْهُ الشَّرْعُ مَخْصُوصًا بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تہوار والے دن تحفے لائے گئے تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ تہوار کا دن ہے۔ انہوں نے فرمایا: تم ہر دن کو «فَيْرِزُوا» ”فیروز“ بنا لو، تو ابو اسامہ نے کہا: انہوں نے «النَّيْرُوزُ» ”نیروز“ کہنا بھی پسند نہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ صرف ان کا کسی ایک دن کو مخصوص کرنے کی وجہ سے تھا کیونکہ شریعت نے اس کو مخصوص نہ کیا تھا۔