السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يسكن أرض الحجاز مشرك باب: سرزمینِ حجاز میں کوئی مشرک رہائش پذیر نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّرِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ بِالطَّابِرَانِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ⦗٣٥١⦘ وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، وَبَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَمَنْ سِوَاهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ لَا يُقَرُّونَ فِيهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ يُفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ أَمْ لَا.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر و قریظہ کے یہودیوں نے نبی ﷺ سے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے یہود کو جلا وطن کر دیا یعنی بنو قینقاع جو عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنو حارثہ کو بھی جلا وطن کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہود و نصاریٰ اور کوئی بھی کافر تین دن سے زیادہ مدینہ میں نہ رہا۔ مجھے معلوم نہیں انہوں نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا یا نہیں۔