حدیث نمبر: 18747
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ: اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا "، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالَ: " ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ "، وَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ فَقَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوٍ مِمَّا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، وَالثَّالِثَةَ نُسِّيتُهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جمعرات کا دن، جمعرات کا دن کیا ہے؟“ پھر وہ روئے اور فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی کاغذ لاؤ میں تمہیں تحریر کر دوں، پھر تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔“ انھوں نے اس میں جھگڑا کیا حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑا کرنا درست نہیں ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس چیز سے بہتر ہے جس کی جانب تم مجھے بلاتے ہو۔“ آپ ﷺ نے ان چیزوں کا حکم دیا کہ: ”مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور ان سے اتنا جزیہ لو جتنا میں لیتا تھا“ اور تیسری چیز میں بھلا دیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18747
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»