کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا، تھوڑا ہو یا زیادہ، حرام ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً، ⦗١٧١⦘ إِنَّمَا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالْأَمْوَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا نَحْوَ وَادِي الْقُرَى، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ رِفَاعَةُ بْنُ بَدْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبِيبٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ سَهْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَهُ فَمَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي غَلَّهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر گئے تو سونا، چاندی مالِ غنیمت میں نہ ملا بلکہ عام مال حاصل ہوا۔ پھر ہم وادی القریٰ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا، جو رفاعہ بن بدر (بنو خبیب کے آدمی) نے دیا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ ایک اجنبی تیر اس کو لگ گیا جس کی وجہ سے وہ فوت ہو گیا۔ لوگوں نے اسے جنت کی بشارت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے خیبر کے مالِ غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ایک چادر چرائی تھی، وہ آگ بن کر اس پر لپٹی ہوئی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ سے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18202
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ فِي النَّارِ ". فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَلَيْهِ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے سامان پر مقرر تھا جس کا نام کرکرہ تھا۔ وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جا کر دیکھا تو اس کے اوپر ایک حلہ تھا جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا اور خیانت کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18203
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣٠٧٤»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِي بْنِ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ أَبُو عَمْرٍو الْغُدَانِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي نَاسًا، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا أَوْ بُرْدَةٍ غَلَّهَا ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ". فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن بعض صحابہ شہید ہوئے تو لوگوں نے کہا: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: یہ شہید ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بلکہ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا ہے، ایک عباء یا چادر کی خیانت کی وجہ سے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! جاؤ لوگوں میں اعلان کر دو کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18204
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١١٤»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ ⦗١٧٢⦘ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ ". فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص خیبر کے دن فوت ہو گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کرو۔“ اس کی وجہ سے لوگوں کے رنگ تبدیل ہو گئے۔ راوی کا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں خیانت کی ہے۔“ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہود کے ہاروں میں سے ایک ہار پایا جو دو درہم کے برابر تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18205
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَذَكَرَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ فَقَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے غنیمت کے مال میں خیانت کا تذکرہ فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا اور اس خیانت کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے تو اس کی گردن پر ایسا اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو اور وہ کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیں۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک (فریضہ زکوۃ کی) بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو، وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے، میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تمہیں بتادیا تھا۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ شخص کہے: اے اللہ کے رسول! میری مدد فرمائیے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سوار انسان چلا رہا ہو، وہ شخص کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہو اور وہ التجا کررہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“ پھر فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑے پھڑ پھڑا رہے ہوں اور وہ التجا کررہا ہو کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجئے اور میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18206
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٧٣⦘ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ ثُمَّ قَالَ: " لِيَحْذَرْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ عَلَى عُنُقِهِ، فَيَقُولَ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا، إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ رَجُلٌ عَلَى عُنُقِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ عَلَى عُنُقِهِ رِقَاعٌ فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ ". قَالَ حَمَّادٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ بِهِ نَحْوًا مِنْ هَذَا، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا، پھر فرمایا: ”تمہیں ڈرنا چاہیے کہ کوئی کل قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو اور وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے۔ میں جواب دوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے بات تجھے پہنچا دی تھی اور کوئی شخص قیامت کے دن میدانِ حشر میں آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں، وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے، میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تجھے بات پہنچا دی تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18207
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: ورَوَاهُ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، وَقَالَ الْكَنْزَ بَدَلَ الْكِبْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو اس حالت میں موت آئی کہ وہ تین چیزوں سے محفوظ تھا: تکبر سے، مالِ غنیمت میں خیانت سے اور قرض سے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ ابوعیسیٰ کہتے ہیں کہ سعید، قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے «الْكِبْرِ» کی جگہ «الْكَنْزِ» کے الفاظ بولے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18208
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»