السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الغلول قليله وكثيره حرام باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا، تھوڑا ہو یا زیادہ، حرام ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٧٣⦘ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ ثُمَّ قَالَ: " لِيَحْذَرْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ عَلَى عُنُقِهِ، فَيَقُولَ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا، إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ رَجُلٌ عَلَى عُنُقِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: إِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ عَلَى عُنُقِهِ رِقَاعٌ فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لَا أُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ ". قَالَ حَمَّادٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ بِهِ نَحْوًا مِنْ هَذَا، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا، پھر فرمایا: ”تمہیں ڈرنا چاہیے کہ کوئی کل قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو اور وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے۔ میں جواب دوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے بات تجھے پہنچا دی تھی اور کوئی شخص آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے، میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے بات پہنچا دی تھی اور کوئی شخص قیامت کے دن میدانِ حشر میں آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں، وہ کہے: اے محمد! میری مدد کیجیے، میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تجھے بات پہنچا دی تھی۔“