السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الغلول قليله وكثيره حرام باب: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا، تھوڑا ہو یا زیادہ، حرام ہے۔
حدیث نمبر: 18205
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ ⦗١٧٢⦘ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ ". فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص خیبر کے دن فوت ہو گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کرو۔“ اس کی وجہ سے لوگوں کے رنگ تبدیل ہو گئے۔ راوی کا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں خیانت کی ہے۔“ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہود کے ہاروں میں سے ایک ہار پایا جو دو درہم کے برابر تھا۔