کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قیدی کو مضبوطی سے باندھا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ بِطُولِهِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر نجد کی جانب روانہ فرمایا۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر لائے جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا، جو یمامہ کا سردار تھا۔ انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18143
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ، فَكُنْتُ فِيهِمْ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ فِي الْكَدِيدِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ فَأَخَذْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: " إِنْ تَكُ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقْ مِنْكَ، فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب بن ابی مکیث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر میں روانہ کیا، میں بھی ان میں شامل تھا اور ان کو حکم دیا کہ ”وہ بنو ملوح پر کدید نامی جگہ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیں۔“ ہم نکلے تو ہماری ملاقات کدید میں حارث بن برصاء سے ہوگئی، ہم نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: ”میں اسلام کے ارادے سے آیا ہوں، رسول اللہ ﷺ کے پاس جانا چاہتا ہوں۔“ ہم نے کہا: ”اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن، رات کا باندھنا تجھے نقصان نہ دے گا، اگر تم مسلم نہیں تو پھر ہم تجھے مضبوطی سے باندھیں گے۔“ ہم نے اس کو باندھ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18144
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَالْأُسَارَى مَحْبُوسُونَ بِالْوَثَاقِ، بَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاهِرًا أَوَّلَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَا تَنَامُ وَقَدْ أَسَرَ الْعَبَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَمِعْتُ أَنِينَ عَمِّيَ الْعَبَّاسِ فِي وَثَاقِهِ ". فَأَطْلَقُوهُ، فَسَكَتَ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بدر کے دن شام کے وقت جب قیدیوں کو زنجیروں سے باندھا جا رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے رات کا پہلا حصہ بیدار رہ کر گزارا۔ آپ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سو کیوں نہیں رہے؟ اور عباس کو ایک انصاری نے قیدی بنا رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے چچا عباس کے رونے کی آواز سنی ہے“، انہوں نے اس کو کھول دیا۔ وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ سو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18145
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِالْأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمُ الْمَدِينَةُ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَيْ عَفْرَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِمُ الْحِجَابُ، قَالَتْ سَوْدَةُ: فَوَاللهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أُتِينَا، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ يَدَاهُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ، فَوَاللهِ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ كَذَلِكَ أَنْ قُلْتُ: أَيْ أَبَا يَزِيدَ أَعْطَيْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَّا مِتُّمْ كِرَامًا، فَمَا انْتَهَيْتُ إِلَّا ⦗١٥٢⦘ بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ: " يَا سَوْدَةُ أَعَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ مَجْمُوعَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو قیدی لائے گئے اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا (نبی ﷺ کی بیوی) آل عفراء کے پاس تھیں، عطیان کے اندر۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں ان کے پاس تھی جب ہمیں لایا گیا۔ کہا گیا: یہ قیدی ہیں۔ ہم آپ کے سامنے لائے گئے۔ میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ ﷺ وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ ان کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا: اے ابو یزید! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار! عزت کی موت مر جاتے۔ میں سمجھ نہ سکی مگر گھر سے رسول اللہ ﷺ کی آواز آئی: ”اے سودہ! کیا اللہ اور رسول پر؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی، جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18146
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِأَسِيرٍ وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ، فَلَهَيْنَهَا عَنْهُ، فَذَهَبَ الْأَسِيرُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَيْنَ الْأَسِيرُ؟ ". فَقَالَتْ: نِسْوَةٌ كُنَّ عِنْدِي فَلَهَيْنَنِي عَنْهُ فَذَهَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَطَعَ اللهُ يَدَكِ ". وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِهِ فَجِيءَ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَخْرَجَتْ يَدَيْهَا، فَقَالَ: " مَا لَكِ؟ ". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ. إِنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيَّ بِقَطْعِ يَدِيَّ وَإِنِّي مُعَلِّقَةٌ يَدِيَّ أَنْتَظِرُ مَنْ يَقْطَعُهَا. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجُنِنْتِ؟ ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: " اللهُمَّ مَنْ كُنْتُ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے پاس ایک قیدی کو بھیجا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کر دیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”اے عائشہ! قیدی کہاں ہے؟“ فرماتی ہیں: میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کر دیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قَطَعَ اللّٰهُ يَدَيْكِ» ”اللہ تیرے ہاتھ کاٹ دے۔“ آپ ﷺ چلے گئے اور اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا۔ جب نبی ﷺ آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کیا ہے؟“ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی، میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو پاگل ہو گئی ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اَللّٰهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً» ”اے اللہ! جو میں نے اس کے خلاف بددعا کی تھی اس کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18147
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»