کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
حدیث نمبر: 18148
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَرْبَاعِ، فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قَالَ: " إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعْرِ، فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ، وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ ". وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا مَضَى فِي مَسْأَلَةِ التَّحْرِيقِ،.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چلے، وہ لشکر کے چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ انہوں نے گمان کیا کہ آپ سوار ہو جائیں گے، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی پیدل چلتا ہوں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہ تم سواری سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا، میں تو ان قدموں کے ذریعے اللہ کی راہ میں ثواب کی نیت کرتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان کو چھوڑ دینا اور جس حال پر ان کا گمان ہو کہ انہوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اسے بھی رہنے دینا۔ اور تم ایسی قوم کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان (حصوں) کو تلوار سے کاٹ ڈالنا۔ اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں: تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری یا اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کسی شہد کی مکھی کو نہ جلانا اور نہ ڈبونا، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔“
حدیث نمبر: 18149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ رَوْحُ بْنُ ⦗١٥٣⦘ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الشَّامِيِّ، قَالَ: جَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، بِعْثَةً إِلَى الشَّامِ أَمِيرًا فَمَشَى مَعَهُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی مالک شامی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لشکر کا امیر بنا کر شام کی جانب روانہ فرمایا اور خود ان کے ساتھ پیدل چلے۔
حدیث نمبر: 18150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ عَلَى رُبْعٍ مِنَ الْأَرْبَاعِ، خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهُ يُوصِيهِ، وَيَزِيدُ رَاكِبٌ وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي، فَقَالَ يَزِيدُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ: " مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، يَا يَزِيدُ إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ بِلَادًا تُؤْتَوْنَ فِيهَا بِأَصْنَافٍ مِنَ الطَّعَامِ، فَسَمُّوا اللهَ عَلَى أَوَّلِهَا، وَاحْمَدُوهُ عَلَى آخِرِهَا، وَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِي هَذِهِ الصَّوَامِعِ فَاتْرُكُوهُمْ وَمَا حَبَسُوا لَهُ أَنْفُسَهُمْ، وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدِ اتَّخَذَ الشَّيْطَانُ عَلَى رُءُوسِهِمْ مَقَاعِدَ - يَعْنِي الشَّمَامِسَةَ - فَاضْرِبُوا تِلْكَ الْأَعْنَاقَ، وَلَا تَقْتُلُوا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا وَلِيدًا، وَلَا تُخْرِبُوا عُمْرَانًا، وَلَا تَقْطَعُوا شَجَرَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَعْقِرُنَّ بَهِيمَةً إِلَّا لِنَفْعٍ، وَلَا تَحْرِقُنَّ نَخْلًا، وَلَا تُغَرِّقُنَّهُ، وَلَا تَغْدِرْ، وَلَا تُمَثِّلْ، وَلَا تَجْبُنْ، وَلَا تَغْلُلْ، {وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ} [الحديد: ٢٥]، أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ وَأُقْرِئُكَ السَّلَامَ ". ثُمَّ انْصَرَفَ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو چار گروہوں میں سے ایک کا امیر بنا کر شام کی جانب بھیجا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وصیت کی غرض سے ان کے ساتھ پیدل چلے، جبکہ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ یزید رضی اللہ عنہما نے کہا: اے خلیفہ رسول! یا تو آپ سوار ہو جائیں یا میں بھی نیچے اتر آتا ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اترو نہ میں سوار ہوتا ہوں، میں تو اللہ کے راستے میں پیدل چلنے کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ اے یزید! تم ایسے شہروں میں آؤ گے جن میں مختلف قسم کے کھانے ہوں گے، ابتدا میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اللہ کی تعریف کرو، حمد بیان کرو۔ اور عنقریب تم ایسے لوگ بھی پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو معبد خانوں میں روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو اور جنہوں نے اپنے آپ کو بھی روک رکھا ہو۔ اور عنقریب تم ایسی قوم کو پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں پر سخت نفرت والی اشیاء بنا دی ہوں گی، ان کی گردنیں اڑا دو۔ کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، درخت اور چوپائے کو فائدہ کے لیے کاٹنا، شہد کے چھتے کو نہ جلانا، دھوکا، مثلہ، بزدلی اور خیانت نہ کرنا۔ ﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [سورة الحديد: 25] ”اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بن دیکھے مدد کرے گا کیونکہ اللہ قوی اور غالب ہے۔“ میں تجھے «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ» ”اللہ کے سپرد کرتا ہوں“ اور میری طرف سے سلام۔ پھر وہ چلے گئے۔
حدیث نمبر: 18151
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ لِي: هَلْ " تَدْرِي لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَةِ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الرُّهْبَانِ؟ ". فَقُلْتُ: لَا أُرَاهُ إِلَّا لِحَبْسِ هَؤُلَاءِ أَنْفُسَهُمْ. فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّ الشَّمَامِسَةَ يَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَيُقَاتِلُونَ دُونَ الرُّهْبَانِ، وَإِنَّ الرُّهْبَانَ دَأْبُهُمْ أَنْ لَا يُقَاتِلُوا، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ} [البقرة: ١٩٠] ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق، محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیوں تفریق کروائی کہ خادمِ کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو، اسے قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا؟ کہتے ہیں: میرے خیال کے مطابق صرف انہوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں! لیکن شماسمہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 190] ”اور تم اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے جہاد کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 18152
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الشَّامِ، فَمَشَى مَعَهُ يُشَيِّعُهُ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَكُونَ مَاشِيًا وَأَنَا رَاكِبٌ. قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّكَ خَرَجْتَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنِّي أَحْتَسِبُ فِي مَشْيِي هَذَا مَعَكَ. ثُمَّ أَوْصَاهُ، فَقَالَ: " لَا تَقْتُلُوا صَبِيًّا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا مَرِيضًا، وَلَا رَاهِبًا، وَلَا تَقْطَعُوا مُثْمِرًا، وَلَا تُخْرِبُوا عَامِرًا، وَلَا تَذْبَحُوا بَعِيرًا وَلَا بَقَرَةً إِلَّا لِمَأْكَلٍ، وَلَا تُغْرِقُوا نَخْلًا، وَلَا تُحْرِقُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عمران جونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام کی جانب روانہ کیا تو ان کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر ان کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور شہد کی مکھی کے چھتے کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18153
وَقَدْ رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٥٤⦘ مُوسَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللهِ وَبِاللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ، لَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا، وَلَا صَغِيرًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا تَغُلُّوا، وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ، وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نام و نصرت کے ساتھ چلو اور رسول اللہ ﷺ کے دین پر کسی بزرگ بوڑھے، بچے، چھوٹے اور عورت کو قتل نہ کرو، خیانت نہ کرو اور مالِ غنیمت اکٹھا کرو، اصلاح کرو اور احسان کرو، ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔““
حدیث نمبر: 18154
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْفَرَّاءُ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ إِمْلَاءً، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ قَالَ: " اخْرُجُوا بِاسْمِ اللهِ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، لَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ، وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْمِصْرِيِّ قَوْلُهُ: " وَلَا تَغُلُّوا " وَالْبَاقِي مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے (ابن ابی اویس کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے لشکر روانہ کرتے تو فرماتے): ”تم اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے تم قتال کرو، دھوکا، مثلہ اور خیانت نہ کرو اور نہ بچوں اور پادریوں کو قتل کرو۔“
لیکن مصری کی روایت میں یہ قول «وَلَا تَغُلُّوۡا» ”اور تم خیانت نہ کرو“ نہیں ہے۔
لیکن مصری کی روایت میں یہ قول «وَلَا تَغُلُّوۡا» ”اور تم خیانت نہ کرو“ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18155
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى عَنْبَسَةَ الْقُرَشِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ: " انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللهِ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا طِفْلًا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، وَلَا تُغَوِّرُنَّ عَيْنًا، وَلَا تَعْقِرُنَّ شَجَرَةً إِلَّا شَجَرًا يَمْنَعُكُمْ قِتَالًا أَوْ يَحْجِزُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُمَثِّلُوا بِآدَمِيٍّ وَلَا بَهِيمَةٍ، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا ". " فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِرْسَالٌ وَضَعْفٌ، وَهُوَ بِشَوَاهِدِهِ مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الْآثَارِ يَقْوَى، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مسلمانوں کا لشکر مشرکین کی جانب روانہ کرتے تو فرماتے: ”«بِسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ چلو۔“ انہوں نے حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ: ”تم بچوں، عورتوں اور زیادہ بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ آنکھ خراب نہ کرو۔ صرف وہ درخت کاٹو جو تمہارے اور مشرکین کے درمیان لڑائی میں رکاوٹ بنتا ہو۔ کسی انسان و چوپائے کا مثلہ نہ کرو۔ دھوکا اور خیانت بھی نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 18156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي ابْنُ صَفْوَانَ، وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشَيِّعًا لِأَهْلِ مُؤْتَةَ حَتَّى بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَوَقَفَ وَوَقَفُوا حَوْلَهُ، فَقَالَ: " اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فَقَاتِلُوا عَدُوَّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ بِالشَّامِ، ⦗١٥٥⦘ وَسَتَجِدُونَ فِيهِمْ رِجَالًا فِي الصَّوَامِعِ مُعْتَزِلِينَ مِنَ النَّاسِ فَلَا تَعَرَّضُوا لَهُمْ، وَسَتَجِدُونَ آخَرِينَ لِلشَّيْطَانِ فِي رُءُوسِهِمْ مَفَاحِصُ فَافْلِقُوهَا بِالسُّيُوفِ، وَلَا تَقْتُلُوا امْرَأَةً، وَلَا صَغِيرًا ضَرَعًا، وَلَا كَبِيرًا فَانِيًا، وَلَا تَقْطَعُنَّ شَجَرَةً، وَلَا تَعْقِرُنَّ نَخْلًا، وَلَا تَهْدِمُوا بَيْتًا ". وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اہل موتہ کو الوداع کرتے ہوئے ثنیۃ الوداع تک جا پہنچے۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو۔ تم اپنے اور خدا کے دشمنوں سے ملک شام میں قتال کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو کنیسہ میں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ ہوں گے تو ان کے درپے نہ ہونا اور دوسری قسم کے لوگ جن کے سروں پر شیطانوں نے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے، ان کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور کسی عورت، چھوٹے بچے، زیادہ بوڑھے شخص کو قتل نہ کرو اور درخت، کھجور نہ کاٹو اور گھروں کو نہ گراؤ۔“
حدیث نمبر: 18157
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ أَبُو زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ، فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتْهُ الْمُقَدِّمَةُ، فَوَقَفُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، قَالَ: فَفَرَّجُوا عَنِ الْمَرْأَةِ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " هَا مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتَلُ ". قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: " الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَلَا يَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَبَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ أَصَحُّ، وَمَنْ قَالَ رِيَاحٌ فَهُوَ وَهِمٌ. كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى.
حافظ ثناء اللہ
مرقع بن صیفی اپنے دادا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ سے، جو حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ لشکر کے مقدمہ پر مقرر تھے۔ رباح رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مقتولہ عورت کے پاس سے گزرے جس کو مقدمہ کے لشکر نے قتل کر دیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی شکل و صورت پر تعجب کر رہے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ بھی اپنی اونٹنی پر تشریف لے آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عورت کے قریب سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ لڑائی کرتی تھی؟“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے چہرے دیکھے اور کسی کو حکم دیا کہ: ”جاؤ خالد بن ولید سے کہہ کر آؤ کہ وہ کسی بچے اور غلام کو قتل نہ کریں۔“
حدیث نمبر: 18158
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الْوَصْفَاءِ، وَالْعَسْفَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب سختیانی رحمہ اللہ کسی شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نوکر کے قتل سے منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 18159
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " اتَّقُوا اللهَ فِي الْفَلَّاحِينَ فَلَا تَقْتُلُوهُمْ إِلَّا أَنْ يَنْصِبُوا لَكُمُ الْحَرْبَ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، صرف ان کو قتل کرو جو تمہارے خلاف لڑائی میں مدمقابل آجائیں۔“ [ضعیف]
حدیث نمبر: 18160
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كَانُوا لَا يَقْتُلُونَ تُجَّارَ الْمُشْرِكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر رحمہ اللہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین تاجر لوگوں کو قتل نہ کرتے تھے۔ [ضعیف]