کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دورانِ جنگ لڑنے والے دشمن کی سواری (جانور) کے پاؤں کاٹنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18139
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَدْ عَقَرَ حَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَاكْتَسَعَتْ فَرَسُهُ بِهِ، فَسَقَطَ عَنْهَا فَجَلَسَ عَلَى صَدْرِهِ لِيَذْبَحَهُ، فَرَآهُ ابْنُ شَعُوبٍ فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَعْدُو كَأَنَّهُ سَبُعٌ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَنْقَذَ أَبَا سُفْيَانَ مِنْ تَحْتِهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ:.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے جانور کی کونچیں احد کے دن کاٹ ڈالیں۔ اس کا گھوڑا بیٹھ گیا تو ابو سفیان رضی اللہ عنہ گر پڑے، تو حنظلہ رضی اللہ عنہ ان کے سینے پر ذبح کرنے کے لیے چڑھ بیٹھے۔ ابن شعوب نے دیکھ لیا، وہ اس کی طرف درندے کی طرح لپکا اور اس کو قتل کر دیا۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو اس کے نیچے سے بچا لیا، تو اس کے بعد ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے:
اگر میں چاہتا تو مجھے طاقت ور سرخ و سیاہ رنگت والا گھوڑا ہی بچا لیتا اور میں ابن شعوب کا احسان نہ اٹھاتا۔ میرا بچھیرا گھوڑا صبح کے وقت سے ان کے کتے کو دھتکارتا رہا حتیٰ کہ غروب کے قریب ہو گیا۔ میں ان سے مسلسل لڑتا رہوں گا اور میں پکاروں گا: غالب کی طرف آؤ، اور میں ان کو صلیب کے غلبے کے ساتھ اپنے سے دور کرتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18139
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18140
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ فِي قِصَّةِ أُحُدٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ حَنْظَلَةَ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ، وَمَا كَانَ مِنْ مَعُونَةِ ابْنِ شَعُوبٍ أَبَا سُفْيَانَ، وَقَتْلِهِ حَنْظَلَةَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْعَقْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَبْيَاتَ أَبِي سُفْيَانَ بِنَحْوٍ مِمَّا ذَكَرَهُنَّ الشَّافِعِيُّ، وَزَادَ عَلَيْهِنَّ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَاسْمُ ابْنِ شَعُوبٍ شَدَّادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، كَذَا قَالَ، وَقَدْ ذَكَرَ الْوَاقِدِيُّ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَقْرَهُ فَرَسَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق، زہری اور دوسروں سے احد کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حنظلہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ذکر کیا اور ابن شعوب کا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی مدد کرنا اور حنظلہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر کیا، لیکن کونچیں کاٹنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے اشعار کا تذکرہ کیا جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا، لیکن انہوں نے کچھ اضافہ بھی کیا ہے۔
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شعوب کا نام شداد بن اسود تھا۔ واقدی نے اس قصے کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18140
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، عَنْ شُيُوخِهِ، فَذَكَرُوا قِصَّةَ حَنْظَلَةَ، قَالُوا: " وَأَخَذَ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِلَاحَهُ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُحُدٍ وَهُوَ يُسَوِّي الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْكَشَفَ الْمُشْرِكُونَ اعْتَرَضَ حَنْظَلَةُ لِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ فَضَرَبَ ⦗١٥٠⦘ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ فَاكْتَسَعَتِ الْفَرَسُ، وَيَقَعُ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى الْأَرْضِ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ. وَحَنْظَلَةُ يُرِيدُ ذَبَحَهُ بِالسَّيْفِ، فَأَسْمَعَ الصَّوْتُ رِجَالًا لَا يَلْتَفِتُونَ إِلَيْهِ فِي الْهَزِيمَةِ حَتَّى عَايَنَهُ الْأَسْوَدُ بْنُ شَعُوبٍ، فَحَمَلَ عَلَى حَنْظَلَةَ بِالرُّمْحِ، فَأَنْفَذَهُ وَهَرَبَ أَبُو سُفْيَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر واقدی رحمہ اللہ اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حنظلہ کا قصہ ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا اسلحہ لیا اور احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا ملے۔ جس وقت آپ ﷺ صفیں درست فرما رہے تھے۔ جب مشرک سامنے ہوئے تو حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان کا پیچھا کر کے اس کے گھوڑے کی رگیں کاٹ ڈالیں تو گھوڑا رک گیا اور ابو سفیان زمین پر گر پڑا، ابو سفیان چیخ رہا تھا: اے قریشیو! میں ابو سفیان بن حرب ہوں، حنظلہ رضی اللہ عنہ تلوار سے اسے ذبح کرنا چاہتے تھے۔ کئی اشخاص نے اس کی آواز سنی، لیکن شکست کی بنا پر کوئی اس کی جانب التفات بھی نہ کر رہا تھا یہاں تک کہ اسود بن شعوب نے اس کی مدد کی۔ اس نے حنظلہ رضی اللہ عنہ کو تیر مار کر ہلاک کر دیا، اس کو چھڑوایا تو ابو سفیان بھاگ گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18141
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»
حدیث نمبر: 18142
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْحُدَيْبِيَةِ وَرُجُوعِهِمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرًا مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُبْدِيهِ مَعَ الظَّهْرِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ، وَقَتْلَ رَاعِيَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ، خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ. قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ يَا صَبَاحَاهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَأَرْمِي رَجُلًا فَأَضَعُ السَّهْمَ حَتَّى يَقَعَ فِي كَتِفِهِ، وَقُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ، فَإِذَا رَجَعَ إِلِيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا فَرَمَيْتُهِ فَعَقَرْتُ بِهِ، فَإِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي مُتَضَايِقٍ رَقِيتُ الْجَبَلَ، ثُمَّ جَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ. قَالَ: فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللهُ بَعِيرًا مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جَعَلْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُهُمُ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، وَعَلَى أَثَرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَعَلَى أَثَرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ، فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ فَرَسِ الْأَخْرَمِ، قُلْتُ: يَا أَخْرَمُ، إِنَّ الْقَوْمَ قَلِيلٌ فَاحْذَرْهُمْ، لَا يَقْتَطِعُونَكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ. فَخَلَّيْتُهُ، فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ، وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ، وَعُقِرَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ وَخَرَجُوا هَارِبِينَ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ⦗١٥١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیبیہ کا قصہ ذکر کیا اور مدینہ کی طرف واپسی کا تذکرہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے غلام رباح رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ اونٹ بھیجے۔ راوی کہتے ہیں: میں بھی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساتھ نکلا، میں بھی اونٹوں کا خیال رکھ رہا تھا۔ اچانک صبح کے وقت عبدالرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کر دیا اور تمام اونٹ لے گیا اور چرواہے کو قتل کر دیا۔ میں نے کہا: ”اے رباح! یہ گھوڑا لو اور سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دے دینا اور جا کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دو کہ مشرکین نے مویشیوں پر حملہ کر دیا ہے۔“ پھر میں نے ثنیہ پہاڑی پر چڑھ کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین آوازیں لگائیں: «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ!» ”اے صبح کے وقت ہونے والے حملے (کی پکار)!“ اے لوگو! ہم صبح کے وقت لٹ گئے۔ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے ہو لیا، تیر مار رہا تھا اور اشعار پڑھ رہا تھا: «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔“ کہتے ہیں: میں کسی کو تیر مارتا اور اپنے تیر محفوظ بھی رکھتا یہاں تک کہ جب وہ اس کے کندھے کو زخمی کرتا تو پھر میں کہتا: ”یہ لو! «أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ» ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔“ کہتے ہیں: میں انہیں تیر مارتا اور زخمی کرتا رہا، جب کوئی شہسوار واپس آتا تو میں درخت کی اوٹ میں ہو کر بیٹھ جاتا اور تیر مار کر زخمی کر دیتا اور جب پہاڑوں کا تنگ راستہ آ جاتا تو میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر برساتا۔ کہتے ہیں: میں اس طرح کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے جتنے اونٹ تھے، میں نے ان کو اپنے پیچھے محفوظ کر لیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو پیچھے چھوڑتا گیا اور وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ میں اپنی جگہ پر رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے شہسواروں کو دیکھا کہ وہ درختوں کے درمیان سے ظاہر ہوئے۔ سب سے پہلے آنے والے سیدنا اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پیچھے سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ۔ میں نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام تھام لی، میں نے کہا: ”اے اخرم! یہ تھوڑے لوگ ہیں، ان سے بچو! وہ تجھے ہلاک نہ کر دیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنهم ہمیں مل جائیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے سلمہ! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جنت و جہنم کو حق خیال کرتا ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بن۔“ تو میں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ عبدالرحمن بن عیینہ سے جا ملے تو سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عیینہ کے گھوڑے کو زخمی کر دیا تو عبدالرحمن نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر شہید کر دیا۔ پھر عبدالرحمن اپنے گھوڑے کے پاس آیا، اتنی دیر میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کو قتل کر دیا اور عبدالرحمن نے انہیں زخمی کیا۔ پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو اپنی تحویل میں لیا اور وہ بھاگ گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»