❮
❯
حدیث نمبر: 18146
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُدِمَ بِالْأُسَارَى حِينَ قُدِمَ بِهِمُ الْمَدِينَةُ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ آلِ عَفْرَاءَ فِي مُنَاخِِهِمْ عَلَى عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَيْ عَفْرَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِمُ الْحِجَابُ، قَالَتْ سَوْدَةُ: فَوَاللهِ إِنِّي لَعِنْدَهُمْ إِذْ أُتِينَا، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى قَدْ أُتِيَ بِهِمْ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، وَإِذَا أَبُو يَزِيدَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ يَدَاهُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَى عُنُقِهِ بِحَبْلٍ، فَوَاللهِ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ كَذَلِكَ أَنْ قُلْتُ: أَيْ أَبَا يَزِيدَ أَعْطَيْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَّا مِتُّمْ كِرَامًا، فَمَا انْتَهَيْتُ إِلَّا ⦗١٥٢⦘ بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ: " يَا سَوْدَةُ أَعَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَلَكْتُ حِينَ رَأَيْتُ أَبَا يَزِيدَ مَجْمُوعَةً يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب قیدیوں کو مدینہ لایا گیا اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا (نبی ﷺ کی بیوی) آل عفراء کے پاس عفراء کے دونوں بیٹوں عوف اور معوذ کی تعزیت کی مجلس میں تھیں۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس تھی کہ ہمیں خبر آئی اور کہا گیا: یہ قیدی ہیں جنہیں لایا گیا ہے۔ میں اپنے گھر واپس آئی تو رسول اللہ ﷺ وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ ان کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا: اے ابو یزید! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار! عزت کی موت مر جاتے۔ میں ابھی باز نہ آئی تھی کہ گھر سے رسول اللہ ﷺ کی آواز آئی: ”اے سودہ! کیا اللہ اور رسول پر؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی، جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18146
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»