اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ: " انْظُرْ عَلَى مَا اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ ". فَجَاءَ، فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ: " مَا ⦗١٤٠⦘ كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ". قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ: " قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، آپ ﷺ نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ: ”دیکھو، لوگ کس چیز پر جمع ہیں؟“ اس نے آ کر بتایا کہ وہ ایک مقتولہ عورت پر جمع ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ راوی کہتے ہیں کہ مقدمہ (ہراول دستے) پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ ﷺ نے کسی کو بھیجا اور فرمایا: ”خالد سے کہو کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔“
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً بِالطَّائِفِ، فَقَالَ: " أَلَمْ أَنْهَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ؟ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ؟ ". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْدَفْتُهَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْرَعَنِي فَتَقْتُلَنِي. فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوَارَى ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے طائف میں ایک مقتولہ عورت دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے عورتوں کے قتل سے منع نہیں کیا؟ اس مقتولہ عورت کو کس نے قتل کیا ہے؟“ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کیا ہے، میں نے اس کو اپنے پیچھے سوار کیا تھا، اس نے مجھے گرا کر قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔“ آپ ﷺ نے اس کو دفن کر دینے کا حکم فرمایا۔
وَعَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ أَشْرَفَتِ امْرَأَةٌ فَكَشَفَتْ قُبُلَهَا، فَقَالَتْ: هَا دُونَكُمْ فَارْمُوا، فَرَمَاهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَمَا أَخْطَأَ ذَلِكَ مِنْهَا، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَمَا أَخْطَأَهَا أَنْ قَتَلُوهَا، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوَارَى. أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا تو اوپر سے ایک عورت نے جھانک کر کہا: (اس کا پردہ کھل گیا) تم ان پر تیر اندازی کرو، تو ایک مسلمان نے تیر مارا جس کا نشانہ خطا نہ گیا۔ وہیب کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کرنے میں غلطی نہ کی تو آپ ﷺ نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا قَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً، وَاللهِ إِنَّهَا عِنْدِي لَتَضْحَكُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا وَاللهِ. فَقُلْتُ: وَيْلَكِ مَا لَكِ؟. فَقَالَتْ: أُقْتَلُ وَاللهِ. قُلْتُ: وَلِمَ؟. قَالَتْ: لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُهُ. فَانْطُلِقَ بِهَا فَضُرِبَ عُنُقُهَا، فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا طِيبَةَ نَفْسِهَا، وَكَثْرَةَ ضَحِكِهَا، وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ. ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ، عَنْهُ عَنْ أَصْحَابِهِ، أَنَّهَا كَانَتْ دَلَّتْ عَلَى مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ دَلَّتْ عَلَيْهِ رَحًى فَقَتَلَتْهُ، فَقُتِلَتْ بِذَلِكَ. قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِهَا، فَقَتَلَهَا لِذَلِكَ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَصِحَّ الْخَبَرُ لِأِيِّ مَعْنًى قَتَلَهَا، وَقَدْ قِيلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَةَ قُتِلَ بِخَيْبَرَ وَلَمْ يُقْتَلْ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ، سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ ﷺ ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی: فلاں عورت کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ہوں۔ میں نے کہا: تجھے کیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں قتل کر دی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۔ (ب) ابو عبدالرحمن بغدادی اپنے صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر چکی گرا کر قتل کر دیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔
وَاحْتَجَّ بِمَعْنَى الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِ ⦗١٤١⦘ خَيْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، وَيَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِهَذَا؟ ". فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْمَنْقُولُ عِنْدَنَا فِي قِصَّةِ هَذِهِ الْمَرْأَةِ مَا ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی نکلا، اس نے اپنا اسلحہ پہن رکھا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کون میرا مقابلہ کرے گا؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون اس کے مدمقابل آئے گا؟“ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں، انہوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، فِيمَا حَدَّثَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَالْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: إِنَّ خَلَّادَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْخَزْرَجِيَّ دَلَّتْ عَلَيْهِ فُلَانَةُ، امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، رَحًا فَشَدَخَتْ رَأْسَهُ، فَذُكِرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ". فَقَتَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذُكِرَ، وَكَانَ خَلَّادُ بْنُ سُوَيْدٍ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَأُحُدًا، وَالْخَنْدَقَ، وَبَنِي قُرَيْظَةَ ". وَهَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَالْوَاقِدِيِّ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سعد رحمہ اللہ واقدی سے نقل فرماتے ہیں کہ خلاد بن سوید بن ثعلبہ خزرجی رضی اللہ عنہ پر بنو قریظہ کی عورت نے چکی گرا کر ان کا سر کچل دیا، آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ ہوا تو فرمایا: ”اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ پھر اس کے عوض رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو قتل کیا تھا اور خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ بدر، احد، خندق اور بنو قریظہ کے موقع پر حاضر ہوئے۔