حدیث نمبر: 18104
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ: " انْظُرْ عَلَى مَا اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ ". فَجَاءَ، فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ: " مَا ⦗١٤٠⦘ كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ". قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ: " قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، آپ ﷺ نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ: ”دیکھو، لوگ کس چیز پر جمع ہیں؟“ اس نے آ کر بتایا کہ وہ ایک مقتولہ عورت پر جمع ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو لڑنے والی نہ تھی۔“ راوی کہتے ہیں کہ مقدمہ (ہراول دستے) پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ ﷺ نے کسی کو بھیجا اور فرمایا: ”خالد سے کہو کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18104
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»