کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: کعب بن اشرف کے قتل کا بیان۔
حدیث نمبر: 18102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ ". فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ. قَالَ: " قُلْ ". فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَخَذَنَا بِالصَّدَقَةِ، وَقَدْ عَنَّانَا، وَقَدْ مَلِلْنَا مِنْهُ. فَقَالَ الْخَبِيثُ لَمَّا سَمِعَهَا: وَأَيْضًا وَاللهِ لَتَمَلُّنَّهُ أَوْ لَتَمَلُّنُّ مِنْهُ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَمْرَكُمْ سَيَصِيرُ إِلَى هَذَا. قَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نُسْلِمَهُ حَتَّى نَنْظُرَ مَا فَعَلَ، وَإِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ بَعْدَ أَنِ اتَّبَعْنَاهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أِيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، وَقَدْ جِئْتُكَ لِتُسْلِفَنِي تَمْرًا. قَالَ: نَعَمْ، عَلَى أَنْ تَرْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ. قَالَ مُحَمَّدٌ: نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ؟ قَالَ: فَأَوْلَادَكُمْ، قَالَ: فَيُعَيِّرُ النَّاسُ أَوْلَادَنَا أَنَّا رَهَنَّاهُمْ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ، وَرُبَّمَا قَالَ: فَيُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ: رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ. قَالَ: فَأِيُّ شَيْءٍ تَرْهَنُونَ؟ قَالَ: نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ - يَعْنِي السِّلَاحَ - قَالَ: نَعَمْ. فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ إِلَى أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ وَهُوَ أَخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَجَاءَ مَعَهُ رَجُلَانِ آخَرَانِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْتَمْكِنٌ مِنْ رَأْسِهِ فَإِذَا ⦗١٣٩⦘ أَدْخَلْتُ يَدِي فِي رَأْسِهِ فَدُونَكُمُ الرَّجُلَ. فَجَاؤُوهُ لَيْلًا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَقَامُوا فِي ظِلِّ النَّخْلِ، وَأَتَاهُ مُحَمَّدٌ فَنَادَاهُ: يَا أَبَا الْأَشْرَفِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ. فَنَزَلَ إِلَيْهِ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ تَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: مَا أَحْسَنَ جِسْمَكَ وَأَطْيَبَ رِيحَكَ قَالَ: إِنَّ عِنْدِي ابْنَةَ فُلَانٍ وَهِيَ أَعْطَرُ الْعَرَبِ. قَالَ: فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَدْخَلَ مُحَمَّدٌ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُشِمَّ أَصْحَابِي؟ قَالَ: نَعَمْ. فَأَدْخَلَهَا فِي رَأْسِهِ فَأَشَمَّ أَصْحَابَهُ، ثُمَّ أَدْخَلَهَا مَرَّةً أُخْرَى فِي رَأْسِهِ حَتَّى أَمِنَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ شَبَّكَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَنَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: دُونَكُمْ عَدُوَّ اللهِ، فَخَرَجُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دی ہے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ ﷺ پسند کریں گے کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کو قتل کروں گا لیکن آپ ﷺ مجھے کچھ باتیں کہنے کی اجازت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہہ لے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے: اس شخص (یعنی محمد ﷺ) نے ہم سے صدقہ لیا، ہم پر سختی کی اور ہم اس سے اکتا گئے ہیں۔ خبیث انسان نے جب یہ باتیں سنیں اور یہ بھی کہا کہ اللہ کی قسم! تم ضرور اس سے اکتا جاؤ گے اور مجھے معلوم تھا کہ تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم اس کو چھوڑ نہیں سکتے، یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور ہم اس کی اتباع کے بعد چھوڑنا ناپسند کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ اس کا معاملہ کہاں تک پہنچتا ہے؛ میں تیرے پاس آیا ہوں تاکہ مجھے کھجوریں ادھار دو۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے لیکن تم اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ عرب میں سب سے زیادہ حسین ہیں، ہم آپ کے پاس اپنی عورتیں گروی رکھ دیں؟ اس نے کہا: اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ ہماری اولاد کو عار دلائیں گے کہ ہم نے انہیں ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا تھا اور بعض اوقات ہماری اولاد کو گالی دی جائے کہ یہ وہ شخص ہے جسے ایک یا دو وسق کے بدلے گروی رکھا گیا۔ اس نے کہا: کون سی چیز تم میرے پاس گروی رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم آپ کے پاس ہتھیار گروی رکھیں گے۔ اس نے کہا: درست ہے۔ اس نے وعدہ لیا کہ وہ اس کے پاس آئے گا۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پلٹ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور ان کے ساتھ ابو نائلہ رضی اللہ عنہ جو کعب کے رضاعی بھائی ہیں اور دو دوسرے آدمی بھی آئے۔ انہوں نے کہا: میں اس کے سر کو مضبوطی سے پکڑ لوں گا، جب میں اپنا ہاتھ اس کے سر میں داخل کروں تو تم حملہ کر دینا۔ وہ ایک رات آئے اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کھجور کے سائے میں کھڑے ہو جائیں۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے آ کر آواز دی۔ اے ابو الاشرف! تو اس کی بیوی نے کہا: آپ اس وقت کہاں جائیں گے؟ اس نے کہا: محمد بن مسلمہ (رضی اللہ عنہ) اور ابو نائلہ (رضی اللہ عنہ) میرا بھائی ہے۔ وہ ایک کپڑے میں لپٹا ہوا اترا، جس سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا جسم کتنا حسین اور تیری خوشبو عمدہ ہے۔ اس نے کہا: میرے نکاح میں فلاں کی بیٹی ہے اور یہ عرب میں سب سے زیادہ بہتر خوشبو والی ہے۔ محمد (بن مسلمہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: ہاں! اور اپنا ہاتھ اس کے سر میں داخل کیا اور اس کی خوشبو اپنے ساتھیوں کو سونگھائی، پھر دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ سے اس کے سر اور پیشانی کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اللہ کے دشمن پر حملہ کر دو، تو انہوں نے نکل کر اس کو قتل کر دیا، پھر انہوں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18102
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18103
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَعَانَقَهُ سَلْكَانُ بْنُ سَلَامَةَ، وَقَالَ: " اقْتُلُونِي وَعَدُوَّ اللهِ "، فَلَمْ يَزَالُوا يَتَخَلَّصُونَ إِلَيْهِ بِأَسْيَافِهِمْ حَتَّى طَعَنَهُ أَحَدُهُمْ فِي بَطْنِهِ طَعْنَةً بِالسَّيْفِ خَرَجَ مِنْهَا مُصْرَانُهُ وَخَلَصُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَكَانُوا فِي بَعْضِ مَا يَتَخَلَّصُونَ إِلَيْهِ، وَسَلْكَانُ مُعَانِقُهُ أَصَابُوا عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ فِي وَجْهِهِ، أَوْ فِي رِجْلهِ وَلَا يَشْعُرُونَ، ثُمَّ خَرَجُوا يَشْتَدُّونَ سِرَاعًا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِجُرُفِ بُعَاثٍ فَقَدُوا صَاحِبَهُمْ، فَرَجَعُوا أَدْرَاجَهُمْ فَوَجَدُوهُ مِنْ وَرَاءِ الْجُرُفِ فَاحْتَمَلُوهُ حَتَّى أَتَوْا بِهِ أَهْلَهُمْ مِنْ لَيْلَتِهِمْ. وَذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ هَذِهِ الْقِصَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: وَأُصِيبَ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ مُعَاذٍ فَجُرِحَ فِي رَأْسِهِ وَرِجْلِهِ، أَصَابَهُ بَعْضُ أَسْيَافِنَا. وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سلکان بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے معانقہ کیا اور اس نے کہا: تم مجھے اور اللہ کے دشمن کو قتل کر ڈالو، وہ اسے اپنی تلواروں سے چھڑواتے رہے حتیٰ کہ ان میں سے ایک نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی، اس کی رگیں باہر آگئیں، پھر انہوں نے اسے تلوار سے قتل کر دیا، جب وہ اسے چھڑوا رہے تھے اور سلکان رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن پکڑی ہوئی تھی تو عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے چہرے یا ٹانگ میں زخم آگیا، انہیں اس کی خبر نہیں تھی، پھر وہ جلدی سے بھاگ نکلے، جب جرفِ بعاث پر پہنچے تو اپنے ساتھی کو گم پایا، وہ الٹے پاؤں پلٹے اور اسے جرف کے پیچھے پایا، پھر اسے اٹھایا اور رات کے وقت اپنے گھر پہنچے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18103