حدیث نمبر: 18110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالُوا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} [الحشر: ٥]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ، وَابْنِ رُمْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بویرہ نامی جگہ پر بنو نضیر کی کھجوریں جلائیں اور کاٹی تھیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ﴾ [سورة الحشر: 5] ”جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ اللہ کے حکم سے ہے تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کر دے۔“
حدیث نمبر: 18111
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ⦗١٤٢⦘ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔
حدیث نمبر: 18112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ"، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ:.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔ اس کے لیے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجوروں کو جلانا آسان ہے۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا﴾ [سورة الحشر: 5] ”جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا۔“
حدیث نمبر: 18113
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ بَعْضَ نَخْلِ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ بَعْضًا"، وَقِيلَ فِي ذَلِكَ شِعْرٌ:.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کی بعض کھجوروں کے درخت جلا دیے اور بعض کاٹ دیے، اس بارے میں یہ شعر بھی کہا گیا:
بنو لؤی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہو گیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔
بنو لؤی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہو گیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 18114
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ رَجَاءُ بْنُ الْجَارُودِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ. قَالَ: وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ:.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دیے، جس کے بارے میں حسان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ”بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درخت جلانے آسان ہو گئے۔“
اس کا جواب ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے دیا تھا:
”اللہ کرے یہ کام جاری رہے اور آگ اس کے اطراف میں بھڑکی رہے، عنقریب تم لوگ جان لو گے کہ ہم میں سے کون بچا ہے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی زمین کا نقصان ہوا ہے۔“
اس کا جواب ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے دیا تھا:
”اللہ کرے یہ کام جاری رہے اور آگ اس کے اطراف میں بھڑکی رہے، عنقریب تم لوگ جان لو گے کہ ہم میں سے کون بچا ہے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی زمین کا نقصان ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 18115
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أُبْنَا صَبَاحًا وَأُحَرِّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا: ”ابنیٰ پر صبح کے وقت حملہ کرو اور ان کو جلا ڈالو۔“
حدیث نمبر: 18116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُسْهِرٍ، قِيلَ لَهُ: أُبْنَا، قَالَ: " نَحْنُ أَعْلَمُ هِيَ يُبْنَا فِلَسْطِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد اللہ بن عمرو غزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسہر رحمہ اللہ سے سنا، ان سے کہا گیا: «أَبْنَىٰ»۔ انہوں نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ یہ فلسطین میں ہے۔
حدیث نمبر: 18117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَكَمَةِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ، فَحَاصَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، وَقَاتَلَتْهُ ثَقِيفٌ بِالنَّبْلِ وَالْحِجَارَةِ وَهُمْ فِي حِصْنِ الطَّائِفِ، وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى فِي الْمُسْلِمِينَ وَفِي ثَقِيفٍ، وَقَطَعَ الْمُسْلِمُونَ شَيْئًا مِنْ كُرُومِ ثَقِيفٍ لِيَغِيظُوهُمْ بِذَلِكَ. قَالَ عُرْوَةُ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ حِينَ حَاصَرُوا ثَقِيفًا أَنْ يَقْطَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَمْسَ نَخَلَاتٍ، أَوْ حَبَلَاتٍ مِنْ كُرُومِهِمْ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا عَفًا لَمْ تُؤْكَلْ ثِمَارُهَا. فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْطَعُوا مَا أُكِلَتْ ثَمَرَتُهُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کے قلعے کے پاس اونچی جگہ پر پڑاؤ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کا دس سے زیادہ راتیں محاصرہ فرمایا تو بنو ثقیف نے تیروں اور پتھروں سے لڑائی کی۔ وہ طائف کے قلعہ میں تھے۔ مسلمانوں اور بنو ثقیف کے زیادہ آدمی قتل ہوئے اور مسلمانوں نے بنو ثقیف کے انگوروں کے پودے غصہ دلانے کے لیے کاٹ ڈالے۔ عروہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا: ”ہر شخص پانچ درخت کھجور یا پانچ پودے انگور کے کاٹ ڈالے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ زیادہ ہے، ان کا پھل کھایا نہیں جاتا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا: ”وہ درخت کاٹے جائیں جن کا پھل کھایا جاتا ہے، پہلے وہ کاٹو۔“
حدیث نمبر: 18118
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي غَزْوَةِ الطَّائِفِ، قَالَ: " وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَكَمَةِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُقَاتِلُهُمْ، فَذَكَرَهُ. قَالَ: وَقَطَعُوا طَائِفَةً مِنْ أَعْنَابِهِمْ لِيَغِيظُوهُمْ بِهَا، فَقَالَتْ ثَقِيفٌ: لَا تُفْسِدُوا الْأَمْوَالَ فَإِنَّهَا لَنَا أَوْ لَكُمْ. قَالَ: وَاسْتَأْذَنَهُ الْمُسْلِمُونَ فِي مُنَاهَضَةِ الْحِصْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَرَى أَنْ نَفْتَحَهُ، وَمَا أُذِنَ لَنَا فِيهِ الْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ غزوہ طائف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کے قلعہ کے پاس اونچی جگہ پر دس سے زیادہ راتیں پڑاؤ کیا۔ آپ ﷺ ان سے لڑائی کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے ان کو غصہ دلانے کے لیے انگور کی بیلیں کاٹ ڈالیں تو بنو ثقیف کہنے لگے: مالوں کو خراب نہ کرو، یہ ہمارے یا تمہارے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے قلعہ والوں کے مقابلہ کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے خیال میں ہم اس کو فتح نہ کر پائیں گے اور نہ ہی ابھی اجازت دی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 18119
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " نَصَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ مَنْجَنِيقًا، أَوْ عَرَّادَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے طائف والوں کے لیے منجنیق نصب فرمائی۔
حدیث نمبر: 18120
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو بَصْرِيٌّ وَكَانَ حَافِظًا، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ، وَنَصَبَ عَلَيْهِمُ الْمَنْجَنِيقَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا " قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: " وَكَانَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَكَأَنَّهُ كَانَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَصْلُ إِسْنَادِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَ رَمْيَهُمْ يَوْمَئِذٍ بِالْمَجَانِيقِ " فَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَاصَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا. قُلْتُ: فَبَلَغَكَ أَنَّهُ رَمَاهُمْ بِالْمَجَانِيقِ؟ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: مَا يُعْرَفُ هَذَا. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " كَذَا قَالَ يَحْيَى إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْهُ، وَزَعَمَ غَيْرُهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ. رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَجَانِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ..
حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سترہ دن طائف والوں کا محاصرہ فرمایا اور ان کے لیے منجنیق نصب فرمائی۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان پر اس حدیث کا انکار کیا گیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا: آپ ﷺ کو خبر ملی کہ ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے گئے۔ آپ نے انکار فرمایا اور فرمایا: ”میں اس کو نہیں پہچانتا۔“
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا: آپ ﷺ کو خبر ملی کہ ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے گئے۔ آپ نے انکار فرمایا اور فرمایا: ”میں اس کو نہیں پہچانتا۔“
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔
حدیث نمبر: 18121
أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُمَا، وَقَدْ ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ عَنْ شُيُوخِهِ، كَمَا ذَكَرَهُ مَكْحُولٌ، وَزَعَمَ أَنَّ الَّذِي أَشَارَ بِهِ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن علی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اہل سکندریہ پر منجنیق نصب کی۔
حدیث نمبر: 18122
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، فِي فَتْحِ قَيْسَارِيَةَ، قَالَ: فَكَانُوا يَرْمُونَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ بِسِتِّينَ مَنْجَنِيقًا وَذَلِكَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ فَتَحَ اللهُ عَلَى يَدَيْ مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن یزید اور یزید بن ابی حبیب قباریہ کی فتح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہر روز منجنیق سے ساٹھ پتھر مارتے تھے۔ یہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی بات تھی۔ یہاں تک کہ امیر معاویہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہاتھ فتح ہوئی۔
حدیث نمبر: 18123
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ ⦗١٤٥⦘ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُغَوِّرَ مَاءَ آبَارِ بَدْرٍ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هَارُونَ. وَيُوسُفُ، وَأَبُو رَبِيعَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ضَعِيفَانِ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: " اسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ: نَرَى أَنْ تُغَوَّرَ الْمِيَاهُ كُلُّهَا غَيْرَ مَاءٍ وَاحِدٍ، فَنَلْقَى الْقَوْمَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں بدر کے کنویں کے پانی کو گہرا کر دوں۔
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی گہرا کردیں، سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
(ب) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی گہرا کردیں، سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
حدیث نمبر: 18124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: " كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ: " إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: " فَشُنُّوهَا غَارَةً فَاقْتُلُوا، وَأَحْرِقُوا، وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب ارتداد کے خلاف لشکر روانہ فرماتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم کسی علاقہ پر حملہ کرو تو ہر طرف سے حملہ کرو، قتل کرو، جلاؤ اور قتل و زخمی کرنے میں مبالغہ کرو۔ نبی ﷺ کی موت کی وجہ سے تمہارے اندر کمزوری ظاہر نہ ہو۔