أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ صَرِيعٌ، وَعَلَيْهِ بَيْضَةٌ، وَمَعَهُ سَيْفٌ جَيِّدٌ، وَمَعِي سَيْفٌ رَدِيٌّ، فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَهُ بِسَيْفِي وَأَذْكُرُ نَقْفًا كَانَ يَنْقُفُ رَأْسِي بِمَكَّةَ، حَتَّى ضَعُفَتْ يَدُهُ فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: عَلَى مَنْ كَانَتِ الدَّبَرَةُ؟ أَكَانَتْ لَنَا، أَوْ عَلَيْنَا؟ أَلَسْتَ رُوَيْعِيَنَا بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَتَلْتَهُ؟ ". فَاسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ مَعِي إِلَيْهِمْ فَدَعَا عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی جبکہ میری تلوار ہلکی تھی۔ میں نے اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا، اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اسے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہو گیا، پھر میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا: شکست کس کو ہوئی؟ کیا ہمیں یا ان کو؟ اور مجھ سے کہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر دیا۔ پھر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”«وَاللّٰهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ» ”اللہ کی قسم! وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے“، کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے؟“ نبی ﷺ نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی، پھر وہ میرے ساتھ گئے، پھر ان کے لیے بددعا فرمائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جُنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ فِي الْقَتْلَى صَرِيعٌ وَمَعِي سَيْفٌ رَثٌّ، فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي فَلَمْ يَعْمَلْ شَيْئًا. قَالَ: وَنَظَرَ إِلِيَّ، فَقَالَ: أَرُوَيْعِينَا بِمَكَّةَ؟ فَوَقَعَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ أَشْتَدُّ حَتَّى أَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَنْتَ قَتَلْتَهُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، حَتَّى اسْتَحْلَفَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفْتُ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ ". فَانْطَلَقَ فَأَرَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: " كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ". وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ابو جہل کے پاس آیا، وہ مقتولین میں نیم مردہ پڑا تھا۔ میرے پاس پرانی تلوار تھی۔ میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارنا شروع کر دیا، وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا؟ اسی اثناء میں اس کی تلوار گر گئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو اس کی تلوار سے قتل کر دیا۔ پھر میں جلدی جلدی آیا اور آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے مجھ سے تین قسمیں لیں۔ میں نے قسمیں دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو مجھے اس کو دکھاؤ۔“ آپ ﷺ نکلے تو میں نے آپ ﷺ کو دکھایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَقِيتُ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حِمَارُ الْيَمَامَةِ، رَجُلًا جَسِيمًا بِيَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ، فَضَرَبْتُ رِجْلَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَتْهُ فَانْقَعَرَ فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ وَأَغْمَدْتُ سَيْفِي، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً حَتَّى انْقَطَعَ فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ سے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا، اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی، میں نے اس کی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہوگئی، اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گر گیا، میں نے اس کی تلوار کو پکڑا اور اپنی تلوار کو میان میں رکھا، میں نے اس کو ایک ہی وار سے قتل کر دیا، پھر میں نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔